اوریا: آخری رسومات کے تین دن بعد زندہ گھر واپس لوٹا نوجوان ،پولیس کے سامنے اب 'اصلی لاش' کا پتہ لگانے کا چیلینج
اوریا، 26 جولائی (ہ س)۔ اتر پردیش کے اوریا ضلع کے اجیت مل تھانہ علاقے میں ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے پولیس سمیت پورے علاقے کو حیران کر دیا ہے۔ ایک شخص، جسے مردہ تصور کیا گیا تھا اور اس کے اہل خانہ نے پوسٹ مارٹم کے بعد اس کی آخری رسومات ادا
لاش


اوریا، 26 جولائی (ہ س)۔ اتر پردیش کے اوریا ضلع کے اجیت مل تھانہ علاقے میں ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے پولیس سمیت پورے علاقے کو حیران کر دیا ہے۔ ایک شخص، جسے مردہ تصور کیا گیا تھا اور اس کے اہل خانہ نے پوسٹ مارٹم کے بعد اس کی آخری رسومات ادا کردی تھیں، تین دن بعد زندہ گھر لوٹ آیا۔ لاش کی زندہ واپسی کے بعد اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ سپرد خاک کی گئی نامعلوم لاش کس کی ہے ؟ پولیس نے معاملے کی نئی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

معاملہ سید پور گاوں کا ہے۔ اجیت مل کوتوالی تھانہ علاقہ کے تحت قومی شاہراہ کے کنارے پر بھیکھے پور بازار کے سابق ایم ایل اے مدن سنگھ گوتم سے تعلق رکھنے والے ایک خستہ حال ہوٹل کے کھنڈرات کے پاس ایک نامعلوم لاش ملی جو کئی دن پرانی سمجھی جارہی ہے۔ جسم کا آدھا حصہ اورچہرہ خراب ہونے کی وجہ سے شناخت مشکل تھی۔ اس کے باوجود سید پور گاو¿ں کے رہنے والے دشرتھ سنگھ اور کچھ دوسرے گاو¿ں والوں نے لاش کی شناخت کمل سنگھ کے طور پر کی۔ جس کی بنیاد پر پولیس نے پوسٹ مارٹم کرایا اور لاش لواحقین کے حوالے کر دی، جس کے بعد لاش کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔

اس دوران پولیس نے کمل سنگھ کی بیوی سنیتا کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا۔ اس نے بتایا کہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل ان کا اپنے شوہر کے ساتھ کھیت کو لے کر جھگڑا ہوا تھا۔ غصے میں، اس نے کمل سنگھ سے کہا تھا کہ جب تک وہ 2 لاکھ روپے کا بندوبست نہیں کر لیتا تب تک گھر واپس نہ آئے۔ اس کے بعد کمل سنگھ گھر سے چلا گیا۔ وہ مزدوری کر کے تین بچوں کی پرورش کر رہی تھی اور حال ہی میں نوکری کی تلاش میں نوئیڈا گئی تھی۔ یہیں پر اسے اپنے شوہر کی موت کا علم ہوا۔ جب وہ گاوں پہنچی تو آخری رسومات ادا کردی گئی تھی ۔

پوچھ گچھ کے دوران سنیتا نے پرانے موبائل نمبروں سے رابطہ کیا۔ ایک نمبر پر بات کرنے کے بعد وہ کمل سنگھ سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اپنی بیوی سے پورا واقعہ جاننے کے بعد، کمل سنگھ ہفتے کی شام دیر رات گاوں واپس آیا۔ گھر والے اور گاوں والے اسے زندہ دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

کمل سنگھ نے بتایا کہ اس نے پہلے پانی پت میں پولٹری فارم میں کام کیا، پھر ٹرک ہیلپر بن گیا اور بعد میں گوالیار میں پلمبنگ کا کام شروع کیا۔ کام کے دوران سیڑھی سے گرنے سے اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اس نے کئی بار اپنی اہلیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا نمبر بلاک ہونے کی وجہ سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ اسے اس سارے واقعے کا تب ہی علم ہوا جب اسے اپنی بیوی کا پیغام ملا۔

اجیت مل کے سرکل آفیسر منوج گنگوار نے اتوار کو کہا کہ متوفی کمل سنگھ کے زندہ پائے جانے کے بعد اس کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ نامعلوم لاش کی شناخت اور مبینہ غلط شناخت کی تحقیقات کے لیے ضروری قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande