وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اساتذہ کے لیے کیش لیس طبی سہولت اسکیم کا آغاز کیا، 1.28 لاکھ اساتذہ سمیت تقریباً 10 لاکھ افراد مستفید ہوں گے
آگرہ، 26 جولائی(ہ س)۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے دو روزہ دورہ آگرہ کے دوسرے دن آگرہ یونیورسٹی کے کھنداری کیمپس میں واقع شیواجی منڈپم آڈیٹوریم میں یونیورسٹی اساتذہ کے لیے کیش لیس طبی سہولت اسکیم اور جامع بیمہ تحفظ اسکیم کا باضاب
وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اساتذہ کے لیے کیش لیس طبی سہولت اسکیم کا آغاز کیا، 1.28 لاکھ اساتذہ سمیت تقریباً 10 لاکھ افراد مستفید ہوں گے


آگرہ، 26 جولائی(ہ س)۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے دو روزہ دورہ آگرہ کے دوسرے دن آگرہ یونیورسٹی کے کھنداری کیمپس میں واقع شیواجی منڈپم آڈیٹوریم میں یونیورسٹی اساتذہ کے لیے کیش لیس طبی سہولت اسکیم اور جامع بیمہ تحفظ اسکیم کا باضابطہ افتتاح کیا۔

تقریب سے قبل وزیراعلیٰ نے یونیورسٹی میں منعقدہ تعلیمی ترقی، تحقیقی پیش رفت اور سماجی خدمات سے متعلق نمائش کا بھی معائنہ کیا اور اس موقع پر یونیورسٹی کی وائس چانسلر آشو کماری سے مختلف امور پر تبادلہ¿ خیال کیا۔ اس پروگرام کو ریاست کے مختلف اضلاع میں براہِ راست نشر بھی کیا گیا۔

اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اس اسکیم سے سرکاری، امدادی اور نجی کالجوں سمیت اعلیٰ تعلیمی اداروں کے تقریباً 1.28 لاکھ اساتذہ اور ان کے اہل خانہ مستفید ہوں گے، جس سے مجموعی طور پر تقریباً 10 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ہر اہل خاندان کو سالانہ 5 لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ کیش لیس ہیلتھ کارڈ کے ذریعے 1900 سے زائد بیماریوں کے علاج کا احاطہ کیا جائے گا، جبکہ علاج کے پیکیج کی شرحیں آیوشمان بھارت اسکیم کے مطابق ہوں گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس اسکیم کا آغاز ریاست کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کے آبائی ضلع سے کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر پنجاب نیشنل بینک اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر بھی دستخط کیے گئے۔اس معاہدے کے تحت اساتذہ کو 1.5 کروڑ روپے کا حادثاتی بیمہ، 3 کروڑ روپے تک فضائی حادثے کا بیمہ، اسپتال میں داخلے پر 60 ہزار روپے تک کیش بینیفٹ اور 12 لاکھ روپے کا ٹرم لائف انشورنس فراہم کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں بھارتی تہذیب اور روایات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی ثقافت میں استاد کو ہمیشہ اعلیٰ ترین مقام حاصل رہا ہے۔ ان کے مطابق ایک حقیقی استاد صرف نصابی تعلیم نہیں دیتا بلکہ اپنے شاگردوں میں درست سوچ، مثبت فکر اور بہتر کردار بھی پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر مشہور طبیب جیوک کی داستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر طالب علم میں سیکھنے کا جذبہ ہونا چاہیے، جبکہ استاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے صحیح راستہ دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی میدان میں بہتر نتائج اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب اساتذہ اپنے طلبہ کی مستقل رہنمائی کریں۔

یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اگرچہ موجودہ تعلیمی ماحول ماضی سے مختلف ہو چکا ہے، تاہم اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کی صلاحیتوں کو پہچانیں، ان کی قابلیت کو نکھاریں اور ان کی دلچسپی اور استعداد کے مطابق انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں۔

وزیراعلیٰ نے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ذرائع جہاں تعلیم اور معلومات کے حصول میں مددگار ہیں، وہیں غلط معلومات نوجوانوں کو گمراہ بھی کر سکتی ہیں۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلبہ کو ڈیجیٹل ذرائع کا مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال سکھائیں تاکہ وہ غلط معلومات سے محفوظ رہ سکیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande