مغربی ایشیا میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات کے پیش نظر خام تیل اورمہنگا ہو ا، خام تیل 100 ڈالر کے قریب پہنچا
ڈبلیو ٹی آئی خام تیل میں بھی فی بیرل 91.42ڈالر کا اضافہ نئی دہلی، 23 جولائی (ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور خلیجی ممالک سے خام تیل کی عالمی فراہمی میں رکاوٹ کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ مغر
تیل


ڈبلیو ٹی آئی خام تیل میں بھی فی بیرل 91.42ڈالر کا اضافہ

نئی دہلی، 23 جولائی (ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور خلیجی ممالک سے خام تیل کی عالمی فراہمی میں رکاوٹ کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ آج برینٹ کروڈ تیزی سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی آج 91 ڈالر فی بیرل کے نشان کو عبور کر گیا۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں، برینٹ کروڈ نے آج 1.16 ڈالر فی بیرل اضافہ کے ساتھ 95.23 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجارت شروع کی۔ تجارت کے آغاز کے بعد، قیمت 99.99 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی۔ یہ گزشتہ دو مہینوں میں بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی بلند ترین سطح ہے۔ تاہم، دن کی تجارت میں اس کی قیمت میں معمولی کمی واقع ہوئی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں، برینٹ کروڈ شام6:30 بجے آئی ایس ٹی پر برینٹ کروڈ 5.64 ڈالرفی بیرل یعنی 5.99 فیصد اضافے کے ساتھ تجارت کر رہا تھا۔

دو ماہ قبل 24 مئی کو برینٹ کروڈ بین الاقوامی مارکیٹ میں 94.92 ڈالر سے 96.30 ڈالر فی بیرل کے درمیان تجارت کر رہا تھا۔ اس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن کی امیدوں کی وجہ سے خام تیل کی قیمت میں گراوٹ کا رجحان رہا، جس کی وجہ سے 1 جولائی کو بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ 94.92 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا۔ تاہم 6 جولائی کے بعد اس کی قیمت میں ایک بار پھر تیزی آئی۔

ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام، برینٹ کروڈ کی طرح، آج کی تجارت 0.90 ڈالر فی بیرل اضافہ کے ساتھ 87.73 ڈالر فی بیرل کی سطح سے شروع ہوئی۔ اس کے فورا بعد، ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 91.42ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔ تاہم بعد میں اس کی قیمت میں ایک چھوٹے سے مارجن کی کمی کی گئی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں، ڈبلیو ٹی آئی خام 6.30 بجے آئی ایس ٹی پر4.32 ڈالرفی بیرل کے اضافے کے ساتھ تجارت کر رہا تھا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی، جنگ بندی کے خاتمے اور دونوں ممالک کی طرف سے ایک دوسرے کے اڈوں پر بار بار حملوں کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے برینٹ کروڈ بین الاقوامی مارکیٹ میں 87 امریکی ڈالر فی بیرل کے نشان کو عبور کر کے ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی 81 ڈالر فی بیرل کے نشان سے اوپر چلا گیا تھا۔ اس کے بعد تین دن تک خاموشی رہی لیکن گزشتہ پانچ تجارتی سیشن سے خام تیل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کا رجحان بن گیا ہے جس کی وجہ سے آج یہ گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح کو عبور کر چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تناو¿ کی وجہ سے خام تیل ایک بار پھر سو ڈالر کی سطح سے اوپر جا سکتا ہے۔ خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہندوستان جیسے خام تیل درآمد کرنے والے ملک کی معیشت کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ فنریکس ٹریڑری ایڈوائزرز ایل ایل پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انل بھنسالی کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت طویل عرصے تک بڑھتی رہی تو ہندوستان کا کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔ ساتھ ہی ملک کا درآمدی بل بھی ہدف سے نمایاں طور پر زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے غیر ملکی سرمائے کا اخراج بھی تیز ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے ہندوستانی کرنسی کمزور ہو سکتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande