
نئی دہلی، 2 جولائی (ہ س)۔
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں بغیر تصدیق کے اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے استعمال پرزیرو ٹالرینس رواداری کا طریقہ اختیار کریں۔ جسٹس پی ایس کی نرسمہا کی صدارت والی تعطیلاتی بینچ نے ایسیل انفرا پروجیکٹس کے دیوالیہ معاملے میں نیشنل کمپنی لا ٹریبونل اور نیشنل کمپنی لا اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا۔ سپریم کورٹ نے پایا کہ نیشنل کمپنی لا ٹربیونل نے اے آئی پر مشتمل فرضی حقائق کو بنیاد بنا کر فیصلہ دیا۔
عدالت نے کہا کہ عدالتوں کو فیصلہ سناتے وقت اے آئی کے ذریعے حاصل کیے گئے پہلے فیصلوں کی تصدیق کرنی چاہیے۔ بغیر تصدیق کے اے آئی پر مبنی فیصلوں کے لیےزیر و ٹالرینس کا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ بغیر تصدیق کے اے آئی پر مبنی فیصلے کا حوالہ دینے والا کوئی بھی وکیل غلط سمجھا جائے گا۔ عدالت نے بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے۔
عدالت نے کہا کہ اگر کوئی فیصلہ فرضی اے آئی حقائق پر مبنی ہے تو اسے قانون کی نظر میں فیصلہ نہیں سمجھا جائے گا۔ ایسے فیصلوں کو ایک طرف رکھنا چاہیے۔ اگر فیصلہ سازی کے عمل میں فرضی اے آئی حقائق شامل ہیں، تو ان فیصلوں کو مسترد کرنا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ