ہیلی کاپٹر آپریشن کے لیے نجی پوائنٹ اِن اسپیس انسٹرومنٹ اپروچ طریقہ کار کو منظوری
نئی دہلی، 02 جولائی (ہ س)۔ ہیلی کاپٹر آپریشن کے لیے ملک کے پہلے نجی پوائنٹ اِن اسپیس انسٹرومنٹ اپروچ طریقہ کار کو منظوری ملنے کے ساتھ ہی بھارت نے شہری ہوا بازی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل حاصل کر لیا ہے۔ اس سے دور دراز، دشوار گزار اور تزویراتی اعت
ہیلی کاپٹر آپریشن کے لیے نجی پوائنٹ اِن اسپیس انسٹرومنٹ اپروچ طریقہ کار کو منظوری


نئی دہلی، 02 جولائی (ہ س)۔ ہیلی کاپٹر آپریشن کے لیے ملک کے پہلے نجی پوائنٹ اِن اسپیس انسٹرومنٹ اپروچ طریقہ کار کو منظوری ملنے کے ساتھ ہی بھارت نے شہری ہوا بازی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل حاصل کر لیا ہے۔ اس سے دور دراز، دشوار گزار اور تزویراتی اعتبار سے اہم علاقوں میں ہیلی کاپٹر آپریشن مزید محفوظ ہو جائے گا۔

شہری ہوا بازی کی وزارت نے بدھ کی شب اعلان کیا کہ ملک کے پہلے نجی پوائنٹ اِن اسپیس انسٹرومنٹ اپروچ طریقہ کار کو اُنڈاولّی ہیلی پورٹ پر ہیلی کاپٹر آپریشن کے لیے منظوری دے دی گئی ہے۔

بھارتی ہوائی اڈہ اتھارٹی (اے اے آئی) کی جانب سے تیار کردہ اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) سے منظور شدہ یہ پوائنٹ اِن اسپیس طریقہ کار، ڈی جی سی اے کے ضوابط اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (آئی سی اے او) کے معیارات اور سفارش کردہ طریقۂ کار کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔

شہری ہوا بازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے PinS انسٹرومنٹ اپروچ طریقہ کار کے نفاذ کے بارے میں کہا، ’’بھارت کے پہلے PinS انسٹرومنٹ اپروچ طریقہ کار کا آغاز ہیلی کاپٹر آپریشن کے شعبے میں ایک نئے دور کی شروعات ہے۔ اس سے پرواز کی حفاظت، آپریشنل کارکردگی اور ہر طرح کے موسم میں پرواز کی سہولت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے ہی ایک تجارتی طیارے کے ذریعے ملک کے پہلے دیسی گگن پر مبنی پریسیژن اپروچ کا کامیاب مظاہرہ کیا گیا تھا۔ ملک کے پہلے پوائنٹ اِن اسپیس انسٹرومنٹ اپروچ طریقہ کار کا آغاز اس سفر میں ایک اور اہم کامیابی ہے۔ یہ کامیابی حکومت کے اس وژن کو مزید مضبوط بناتی ہے، جس کے تحت پرفارمنس بیسڈ نیویگیشن کے ذریعے ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا، دیسی سیٹلائٹ پر مبنی نیویگیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا اور بھارت کے ہوا بازی کے نظام کو عالمی بہترین معیار کے مطابق ترقی دینا ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ہیلی کاپٹر آپریشن کو زیادہ قابلِ اعتماد اور آسان بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہمارا عزم بھارت میں ٹیکنالوجی پر مبنی اور عالمی معیار کے مطابق ہیلی کاپٹر ماحولیاتی نظام کی تعمیر کرنا ہے۔

نائیڈو نے کہا، ’’حال ہی میں ہم نے جدید تکنیکی بنیادی ڈھانچے کی مدد سے اس سال کی چار دھام ہیلی کاپٹر سروس کے پہلے مرحلے کو کسی بھی حادثے کے بغیر کامیابی سے مکمل کیا ہے۔‘‘

شہری ہوا بازی کی وزارت نے کہا کہ اس منظوری سے ملک بھر میں اسی نوعیت کے پوائنٹ اِن اسپیس طریقۂ کار کی تیاری کی راہ ہموار ہونے کی امید ہے، جس سے ہنگامی طبی خدمات، آفات سے نمٹنے کی کارروائیوں، سیاحت، سمندری سرگرمیوں، زیارتی خدمات، کارپوریٹ ہوا بازی اور علاقائی رابطے کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔ یہ نظام دور دراز اور تزویراتی اعتبار سے اہم علاقوں میں انسٹرومنٹ فلائٹ قوانین کے تحت زیادہ محفوظ ہیلی کاپٹر آپریشن کو ممکن بنائے گا، آپریشن کی قابلِ اعتمادیت میں اضافہ کرے گا اور خراب موسم کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو کم کرے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande