خاتون صحافی اور خان سر کے درمیان ہتک عزت کا مقدمہ ثالثی کو بھجوا دیا گیا
نئی دہلی، 2 جولائی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر خان سر اور ایک اور کوچنگ ٹیچر کی طرف سے کئے گئے مبینہ توہین آمیز تبصرے پر ایک خاتون ٹی وی صحافی کی طرف سے دائر ہتک عزت کے مقدمے میں ثالثی کا حوالہ دیا ہے۔ جسٹس تشار راو گڈیلا
خان


نئی دہلی، 2 جولائی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر خان سر اور ایک اور کوچنگ ٹیچر کی طرف سے کئے گئے مبینہ توہین آمیز تبصرے پر ایک خاتون ٹی وی صحافی کی طرف سے دائر ہتک عزت کے مقدمے میں ثالثی کا حوالہ دیا ہے۔ جسٹس تشار راو گڈیلا کی صدارت والی بنچ نے یہ حکم دیا۔

سماعت کے دوران، عدالت نے محسوس کیا کہ اگر ایک سینئر ثالث مقرر کیا جاتا ہے تو دونوں فریق تنازع کو حل کرسکتے ہیں۔ دونوں فریق آج شام ثالث کے سامنے پیش ہوں گے تاکہ تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ دونوں فریقین کو ثالثی کا حوالہ دیتے ہوئے، عدالت نے خان سر اور دیگر کوچنگ انسٹی ٹیوٹ آپریٹرز کو خاتون صحافی کے بچوں کے بارے میں تفصیلات ظاہر کرنے والی پوسٹ کو ہٹانے کا حکم دیا۔ عدالت نے خاتون صحافی سے کہا کہ وہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ چلانے والوں کو نشانہ نہ بنائیں۔

اس سے قبل عدالت نے خاتون ٹی وی صحافی کو کوئی فوری ریلیف دینے سے انکار کر دیا تھا۔ جسٹس نینا بنسل کرشنا کی تعطیلاتی بنچ نے خان سر اور دیگر کوچنگ آپریٹرز کو جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ خاتون ٹی وی صحافی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر نشر ہونے والی ویڈیوز اور پوسٹس میں ان کے لیے 'بکاو پترکار'، 'چاٹوکار' اور 'دلی' جیسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ مزید ، ان پر دلالی اور جعلی خبروں کی دکان چلانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ٹی وی صحافی نے کہا ہے کہ ان پوسٹوں کی وجہ سے ان کے خاندان کو ہراساں کیے جانے اور سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔

درحقیقت، درخواست گزار، ایک ٹی وی صحافی، نے اپنے نیوز چینل پر اسٹار ٹیچرز کے نام سے ایک شو کی میزبانی کی تھی، جس میں انہوںنے کوچنگ آپریٹرز کو دوکوڑی کا ٹیچر کہا تھا۔ اس سے ایک ہنگامہ برپا ہو گیا اور کئی کوچنگ آپریٹرز نے صحافی پر سخت تنقید کرتے ہوئے ویڈیوز بنائیں۔ اس معاملے کو لے کر سوشل میڈیا پر ایک اہم بحث چھڑ گئی۔ اس کے بعد صحافی اور ان کی میڈیا تنظیم نے خان سر اور کئی دیگر کوچنگ آپریٹرز کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا۔ ہتک عزت کے مقدمے میں صحافی اور نیوز چینل نے دو کروڑ روپے ہرجانے کی درخواست کی ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande