امریکی جنگی طیاروں کی یورپ سے مشرق وسطیٰ میں تعیناتی شروع،امریکی فوج کا ایران کے اندر فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع
واشنگٹن،19جولائی(ہ س)۔امریکہ کے ایران کے ساتھ تصادم کا دائرہ وسیع ہونے کے ایک نئے اشارے مل رہے ہیں۔ ’وال سٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ نے یورپ سے مشرق وسطیٰ میں لڑاکا طیاروں کی دوبارہ تعیناتی شروع کر دی ہے، جو ایران کے ان
امریکی جنگی طیاروں کی یورپ سے مشرق وسطیٰ میں تعیناتی شروع،امریکی فوج کا ایران کے اندر فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع


واشنگٹن،19جولائی(ہ س)۔امریکہ کے ایران کے ساتھ تصادم کا دائرہ وسیع ہونے کے ایک نئے اشارے مل رہے ہیں۔ ’وال سٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ نے یورپ سے مشرق وسطیٰ میں لڑاکا طیاروں کی دوبارہ تعیناتی شروع کر دی ہے، جو ایران کے اندر اہداف کے خلاف اس کی فوجی کارروائیوں میں توسیع کے ساتھ ہی کی جا رہی ہے۔

یہ قدم واشنگٹن کی جانب سے بڑے پیمانے پر کشیدگی کے منظر نامے کے لیے آمادگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اخبار کے مطابق امریکی فوج نے خطے میں اپنی فضائی موجودگی کو مضبوط کرنے کے متوازی ایران کے اندرونی حصوں میں زیادہ حساس اہداف کو شامل کرنے کے لیے فضائی حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ تہران نے خلیج عرب میں اپنے حملوں کو تیز کردیا ہے۔ اس سے موجودہ تصادم کے ایک وسیع تر جنگ میں تبدیل ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔اخبار نے کہا ہے کہ ایران کے اندر تزویراتی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے نشانہ بنانے کا مقصد تہران پر دباو بڑھانا ہے تاکہ اسے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر حملے روکنے کے لیے مجبور کیا جا سکے۔ یہ اس معاہدے کے ٹوٹنے کے بعد ہوا ہے جس کا مقصد آبنائے میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا تھا۔اخبار نے یہ رائے بھی دی کہ لڑائی کا یہ دور، جس کا مرکز آبنائے ہرمز پر کنٹرول ہے، دونوں طرف سے مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کا پیش خیمہ ہے کیونکہ واشنگٹن اور تہران دونوں ہی اپنے موقف پر قائم ہیں اور پیچھے ہٹنے کا کوئی اشارہ نہیں دے رہے۔ ایران نے جواب میں اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔اس کے متوازی طور پر ایرانی نیوز ایجنسی ''تسنیم'' نے ایک ایرانی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آج تھائی لینڈ کا پرچم لہرانے والے ایک بحری جہاز کو اس وقت نشانہ بنایا جب اس نے بغیر اجازت آبنائے ہرمز کو عبور کرنے کی کوشش کی۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی نیوز ویب سائٹ ’’ایگزیوس‘‘ نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس میں ایرانی سرزمین کے اندر اہداف کی فہرست کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے نئے حملوں کے ممکنہ نفاذ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande