
حملے فوری بند کرنے کا مطالبہقاہرہ،19جولائی(ہ س)۔اب خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) اور یورپی یونین نے بھی ایران کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔خلیجی اور یوروپی اتحاد نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کسی بھی ملک کی خودمختاری یا کنٹرول کے دعوے غیر قانونی ہیں اور یہ ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔خلیجی اور یوروپی اتحاد نے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی جہازرانی پر کسی بھی قسم کے اجازت نامے، راہداری فیس یا سروس چارجز عائد کرنا ناقابل قبول ہے، جبکہ ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر تمام حملے بند کرے۔ہفتے کی شب جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی دوطرفہ معاہدے، مفاہمتی یادداشت یا انتظام کے ذریعے کسی بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزرنے کے حق کو محدود یا غیر قانونی طور پر منظم نہیں کیا جا سکتا۔اس میں زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا حق بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ممالک کو حاصل ہے اور اسے کسی ایک ریاست کی اجازت یا کنٹرول سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔یہ مشترکہ موقف 13 جولائی 2026 کو برسلز میں منعقد ہونے والے علاقائی سلامتی و تعاون کے اعلیٰ سطحی فورم کے دوران سامنے آیا، جس کی مشترکہ صدارت یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف الزیانی نے جی سی سی وزارتی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے کی۔بیان میں یورپی یونین اور خلیجی تعاون کونسل نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز چونکہ بین الاقوامی جہازرانی کے لیے استعمال ہونے والی آبی گزرگاہ ہے، اس لیے وہاں سے گزرنے کی آزادی اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر سمیت بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ ہے۔بیان میں ایران پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2817 پر مکمل عمل کرے۔اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں آمدورفت کو متاثر کرنے والے کسی بھی یکطرفہ یا غیر قانونی انتظام کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ بحری سلامتی اور جہازرانی سے متعلق امور صرف متعلقہ بین الاقوامی اور علاقائی اداروں، خصوصاً بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے دائرہ کار میں رہنے چاہئیں۔بیان میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر، سلطنت عمان اور اردن سمیت خطے کے ممالک پر کیے گئے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔اعلامیے کے مطابق ان حملوں نے شہریوں اور ملاحوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قرار داد 2817 کی خلاف ورزی کی اور ان کا کسی بھی صورت جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔آخر میں خلیجی اور یورپی فریقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ جہازرانی کی آزادی، عالمی بحری تجارت اور ملاحوں کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون جاری رکھیں گے، جبکہ خطے میں پائیدار امن و سلامتی کے لیے تحمل، مکالمے اور سفارت کاری کو ہی بحران کے حل کا واحد راستہ قرار دیا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan