
سلی گوڑی، 18 جولائی (ہ س): بھارت کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے نقطۂ نظر سے انتہائی اہم سمجھے جانے والے سلی گوڑی کوریڈور (چکن نیک) کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مرکزی حکومت اور مغربی بنگال حکومت نے کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ہفتہ کے روز پھول باڑی اور سلی گوڑی کے اترکنیا سیکریٹریٹ میں منعقد اعلیٰ سطحی میٹنگوں کے دوران بھارت-بنگلہ دیش سرحد کی سیکیورٹی، سرحدی انتظامات، جدید نگرانی کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس دوران انہوں نے سرحدی سیکیورٹی کو مزید مؤثر اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنانے کے لیے متعلقہ افسران کو کئی ضروری ہدایات جاری کیں۔
جمعہ کی دیر رات بگڈوگرا ہوائی اڈے پہنچنے کے بعد وزیر داخلہ ہفتہ کی صبح سب سے پہلے جلپائی گوڑی ضلع کے راج گنج تھانہ علاقے میں بھارت-بنگلہ دیش سرحد سے متصل حساس گاؤں جمعاگچھ پہنچے۔ وہاں انہوں نے سرحد کی زمینی صورتحال، بی ایس ایف کی تعیناتی، سیکیورٹی ڈھانچے اور مقامی حالات کا جائزہ لیا۔ افسران نے انہیں مون سون کے دوران دریائی علاقوں میں پیش آنے والی مشکلات، دراندازی اور اسمگلنگ کے امکانات سے بھی آگاہ کیا۔
اس کے بعد امت شاہ سلی گوڑی میں واقع ریاستی منی سیکریٹریٹ اترکنیا پہنچے، جہاں ریاستی حکومت، مرکزی وزارت داخلہ، بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کے سینئر افسران کے ساتھ اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر خصوصی زور دیا گیا۔
میٹنگ کے دوران ریاست میں 10 نئے بارڈر آؤٹ پوسٹ (بی او پی) قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جن میں سے دو شمالی بنگال فرنٹیئر کے علاقے میں قائم کیے جائیں گے۔ افسران کے مطابق ان نئی چوکیوں کے قیام سے بی ایس ایف کی نگرانی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، فوری کارروائی ممکن ہوگی اور دراندازی، اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں پر مزید مؤثر کنٹرول قائم کیا جا سکے گا۔
بھارت-بنگلہ دیش بین الاقوامی سرحد پر سہ سطحی اسمارٹ فینسنگ منصوبے کو بھی تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ خاص طور پر مہانندا ندی اور دیگر آبی علاقوں کے کھلے حصوں میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ دریائی علاقوں میں روایتی باڑ کافی نہیں ہے، اس لیے وہاں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔
اسی سلسلے میں ورچوئل اسمارٹ فینسنگ، تھرمل امیجنگ کیمرے، ہائی ریزولوشن سینسر، نائٹ وژن آلات، ڈرون نگرانی اور دیگر جدید الیکٹرانک سرویلنس سسٹم نصب کرنے کی ہدایت دی گئی، تاکہ آبی راستوں کے ذریعے ممکنہ دراندازی اور اسمگلنگ کی سرگرمیوں پر چوبیس گھنٹے مؤثر نگرانی رکھی جا سکے۔
افسران نے میٹنگ میں بتایا کہ جمعاگچھ سے رابھا بھیٹا تک تقریباً ڈھائی کلومیٹر اور پھول باڑی سے نارائن جوت تک تقریباً آٹھ کلومیٹر کے حساس علاقے میں گزشتہ ایک ہفتے سے بی ایس ایف اور مغربی بنگال پولیس مشترکہ نگرانی مہم چلا رہے ہیں۔ ان علاقوں میں اضافی گشت، مشترکہ پیٹرولنگ اور تکنیکی نگرانی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
میٹنگ میں بنگلہ دیش کے شمالی علاقے میں دریائے تیستا کے اطراف جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں اور وہاں بڑھتی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ افسران کے مطابق بدلتے ہوئے سیکیورٹی منظرنامے کے پیش نظر بھارت نے سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے اور نگرانی کے نظام کو جدید بنانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ چیلنج کا بروقت اور مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
جائزہ میٹنگ میں شمالی بنگال کے چھ سرحدی اضلاع دارجلنگ، جلپائی گوڑی، کوچ بہار، اتر دیناج پور، دکشن دیناج پور اور مالدہ کے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹس بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ بی ایس ایف کے سینئر افسران نے سرحدی سیکیورٹی سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔ میٹنگ میں سرحدی علاقوں میں سڑکوں، مواصلاتی نیٹ ورک، چوکیوں اور نگرانی کے آلات سمیت بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبے پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزارت داخلہ کے افسران نے بتایا کہ سلی گوڑی کوریڈور، جسے چکن نیک بھی کہا جاتا ہے، شمال مشرقی بھارت کی آٹھ ریاستوں کو ملک کے باقی حصے سے جوڑنے والا واحد اہم زمینی رابطہ ہے۔ تقریباً 20 سے 22 کلومیٹر چوڑا یہ کوریڈور دفاعی، اقتصادی اور قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے انتہائی حساس تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے مغرب میں نیپال، مشرق میں بنگلہ دیش اور شمال میں بھوٹان واقع ہونے کی وجہ سے اس کی تزویراتی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
میٹنگ کے اختتام پر وزیر داخلہ امت شاہ نے تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل، جدید ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال اور سرحدی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت مرکزی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ سرحدی انتظامات کو مستقبل کے چیلنجوں کے مطابق مزید جدید، مؤثر اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنایا جائے، تاکہ بھارت کی خودمختاری، قومی سلامتی اور سلی گوڑی کوریڈور کی اسٹریٹیجک اہمیت ہر حال میں محفوظ رہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد