سبری ورمن موت معاملہ: معاوضہ اور ملازمت کی پیشکش مسترد، اہل خانہ نے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا
کنیا کماری، 17 جولائی (ہ س) ۔ تمل ناڈو کے کنیا کماری ضلع میں ناگرکوئل ڈسٹرکٹ جیل میں عدالتی حراست میں معذور سبری ورمن کی موت سے متعلق تنازعہ لگاتار مزید گہرا ہو تاجا رہا ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے تعطل کو حل کرنے کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔ جمعہ کو م
سبری ورمن موت معاملہ: معاوضہ اور ملازمت کی پیشکش مسترد، اہل خانہ نے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا


کنیا کماری، 17 جولائی (ہ س) ۔

تمل ناڈو کے کنیا کماری ضلع میں ناگرکوئل ڈسٹرکٹ جیل میں عدالتی حراست میں معذور سبری ورمن کی موت سے متعلق تنازعہ لگاتار مزید گہرا ہو تاجا رہا ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے تعطل کو حل کرنے کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔ جمعہ کو ماہی پروری کے وزیر سری ناتھ اور وزیر سیاحت راجیش کمار نے متوفی کے گھر کا دورہ کیا اور غمزدہ خاندان سے تعزیت پیش کی۔ وزراء نے حکومت کے اعلان کردہ ریلیف پیکج اور دیگر امداد کی پیشکش بھی کی لیکن لواحقین نے ان پیشکشوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک ان کے اہم مطالبات نہیں مانے جاتے وہ نہ تو لاش قبول کریں گے اور نہ ہی اپنا احتجاج ختم کریں گے۔

کنیا کماری ضلع کے ایتھنگاڈو علاقے کے رہائشیسبری ورمن اپنی دکان سے پان مسالہ فروخت کرنے کے معاملے میں ناگرکوئل ڈسٹرکٹ جیل میں عدالتی حراست میں تھے۔ دوران حراست ان کی موت مشکوک حالات میں ہوئی۔ واقعے کے بعد پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ناگرکوئل گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال بھیج دیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں کے ایک پینل نے پوسٹ مارٹم کیا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد کیس نے نیا موڑ لے لیا۔ رپورٹ میں سبری ورمن کے جسم پر 19 زخموں کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کے بعد اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ان کی موت جیل کے عملے کی مار پیٹ کی وجہ سے ہوئی۔ تاہم رپورٹ میں ان زخموں کو موت کی وجہ کے طور پر نہیں بتایا گیا، جس سے خاندان اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

متوفی کے اہل خانہ گزشتہ پانچ روز سے احتجاج اور لاش کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ وہ اس معاملے کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے تحقیقات اور قصوروار جیل عملے کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جب تک موت کی اصل وجہ سامنے نہیں آتی اور تمام شکوک و شبہات دور نہیں ہوتے وہ لاش کو قبول نہیں کریں گے۔

دریں اثناء مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں کی ان کے گھر آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعہ کو ماہی پروری کے وزیر سری ناتھ اور ریاستی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیر سیاحت راجیش کمار نے خاندان سے ملاقات کی۔ خاندان کو تسلی دیتے ہوئے، انہوں نے حکومت کی طرف سے اعلان کردہ معاوضے، ایک مفت رہائشی پلاٹ، اور خاندان کے ایک فرد کے لیے ایک عارضی سرکاری ملازمت سے متعلق دستاویزات حوالے کرنے کی کوشش کی۔

خاندان نے ان تمام پیشکشوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ انصاف کی فراہمی سے پہلے کسی قسم کی مالی امداد قبول کرنا نامناسب ہو گا۔ خاندان نے وزراء کو بتایا کہ ان کا مقصد محض معاوضہ وصول کرنا نہیں ہے بلکہ سبری ورمن کی موت کی اصل وجوہات کو بے نقاب کرنا اور مجرموں کو سزا دینا ہے۔ بات چیت کے دوران کوئی معاہدہ نہ ہوسکا جس کے بعد دونوں وزراء واپس چلے گئے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande