آئی ایس آئی ایس کے معاون رقیب انصاری کو پانچ سال قید کی سزا، لکھنؤ این آئی اے عدالت کا فیصلہ
لکھنؤ، 16 جولائی (ہ س)۔ لکھنؤ کی ایک خصوصی قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی عدالت نے دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا (آئی ایس آئی ایس) کا تعاون کرنے کے ملزم رقیب امام انصاری کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس پر چھ
NIA-Court-ISIS-Rakib-Imam


لکھنؤ، 16 جولائی (ہ س)۔ لکھنؤ کی ایک خصوصی قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی عدالت نے دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا (آئی ایس آئی ایس) کا تعاون کرنے کے ملزم رقیب امام انصاری کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس پر چھ ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا، جب سماعت کے دوران انصاری نے اپنے اوپر عائد کئے گئے الزامات کو تسلیم کر لیا ۔

اسپیشل این آئی اے جج اماکانت جندال نے یہ سزا سنائی۔ استغاثہ نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) علی گڑھ کے انسپکٹر محمد اکرم نے 3 نومبر 2023 کو گومتی نگر کے اے ٹی ایس تھانے میں اس معاملے میں ایک رپورٹ درج کرائی تھی۔ تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ ممبئی کے کالا چوکی پولیس اسٹیشن میںایک رپورٹ درج کی گئی تھی۔

تفتیش کے دوران ملزم شاہنواز اور رضوان علی کے بارے میں معلومات جمع کرتے ہوئے پتہ چلا کہ یہ دونوں آئی ایس آئی ایس کے سرگرم رکن ہیں اور دونوں کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تنظیم اسٹوڈنٹ آف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کچھ طلبہ سے تعلقات ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا کہ رضوان یونیورسٹی کا طالب علم نہیں تھا لیکن یونیورسٹی کی تنظیم میں شامل ہو کر وہ داعش کے نظریے کی تشہیر کر رہا تھا۔ اے ٹی ایس کو پتہ چلا کہ رقیب امام انصاری دیگر ملزمان کے ساتھ بھی رابطے میں تھا۔ اس کے علاوہ شاہنواز اور رضوان علی سے رابطے میں رہ کر وہ کالعدم دہشت گرد تنظیم کے نظریے کی تشہیر کرتا تھا۔

استغاثہ نے 17 گواہوں کو پیش کیا۔ ان گواہوں نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کالعدم دہشت گرد تنظیم میں نئے ارکان بھرتی کرنے، جہادی سرگرمیوں کو اکسانے اور بھارت میں شریعت کے نفاذ کے لیے بھارتی حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کر رہے تھے۔ مجرم رقیب امام انصاری بھی اس میں سرگرم کردار ادا کر رہا تھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم رقیب امام انصاری نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande