
نئی دہلی، 16 جولائی (ہ س)۔ مرکزی زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے اعلان کیا کہ اگلے دوبرسوں میں ملک بھر میں 100 کلائمیٹ اسمارٹ ولیج تیار کیے جائیں گے۔ یہ گاؤں میں موسمیاتی اسمارٹ فارمنگ، مربوط فارمنگ ماڈلز، پانی اور مٹی کے تحفظ اور خطرے میں کمی کے عملی طریقے نافذ کریں گے، جس سے کاشتکار بدلتے ہوئے موسم میں بھی محفوظ اور منافع بخش کاشتکاری پر عمل کر سکیں گے۔
چوہان نے آئی سی اے آر کے قیام کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر جمعرات کو پوسا میں ایک پریس کانفرنس میں وزارت کا روڈ میپ شیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے دوبرسوں میں، ”ون انسٹی ٹیوٹ-ون گرانٹ انوویشن“ اقدام کے تحت کم سے کم ایک ایسی تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجی یا حل فراہم کرنا ہوگا، جس کے قومی سطح پر وسیع اثرات مرتب ہوں۔ یہ اختراع کو کسانوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائے—چاہے یہ فصل کی نئی قسم ہو، کوئی ویکسین ہو، ڈیجیٹل ٹول ہو، یا موسمیاتی اسمارٹ ایگریکلچر ماڈل ہو۔
انہوں نے کہا کہ اپنے 100 ویں تاسیسی سال تک، آئی سی اے آر کا ہدف اپنی سائنسی ٹیکنالوجیز، اختراعات اور جدید زرعی اقدامات کے ساتھ کم از کم 100 ملین کسانوں تک پہنچنا ہے۔ انہوں نے اسے وکست بھارت 2047 کے لئے ترقی یافتہ زراعت اور خوشحال کسانوں کی طرف ایک بڑا اور تاریخی قدم قرار دیا۔ آئی سی اے آر کے یوم تاسیس کوکسانوں کے درمیان منانے کے لئے ایک پندرہ روزہ پروگرام کا منصوبہ بنایا جائے، جس میں ہر کسان وکاس کیندر کم از کم 100 گاو¿ں کا دورہ کرے اور بڑے پیمانے پر اپنی تحقیق اور ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرے۔
کسانوں کی شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے چوہان نے کہا کہ نقلی اور غیر معیاری بیجوں اور کیڑے مار ادویات کے خلاف سخت قوانین وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ آسان ٹیکنالوجی اور آلات تیار کریں جو کھیت میں بیجوں اور کیڑے مار ادویات کے معیار کو تیزی سے پہچان سکیں، کسانوں کو دھوکہ دہی سے بچائیں اور فصلوں کے خطرے کو کم کریں۔
مرکزی وزیر چوہان نے ایف ایم ڈی اور جانوروں کی دیگر سنگین بیماریوں پر قابو پانے کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین، نئی اقسام اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بیج، کھاد اور جانوروں کی صحت میں خود انحصاری آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ پرائیویٹ سیکٹر اور اسٹارٹ اپس کے ساتھ مل کر کسانوں تک ان ٹیکنالوجیز کو تیزی سے پھیلانے کے لیے 70 سے زیادہ ایم او یوز اور ٹیکنالوجی لائسنسنگ معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد