روہنگیا-بنگلہ دیشیوں کی دراندازی اور غیر قانونی باز آبادکاری نیٹ ورک کے سلسلے میں ای ڈی کی دہلی سمیت کئی ریاستوں میں چھاپے ماری
نئی دہلی، 16 جولائی (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے روہنگیا اور بنگلہ دیشی شہریوں کی غیر قانونی دراندازی، فرضی ہندوستانی دستاویزات تیار کرانے اور ان کی ہندوستان میں مستقل آبادکاری سے متعلق منی لانڈرنگ معاملے کے سلسلے میں مغربی بنگال، دہلی،
ED-SEARCH-TERROR-FUNDING-INFILTRATION


نئی دہلی، 16 جولائی (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے روہنگیا اور بنگلہ دیشی شہریوں کی غیر قانونی دراندازی، فرضی ہندوستانی دستاویزات تیار کرانے اور ان کی ہندوستان میں مستقل آبادکاری سے متعلق منی لانڈرنگ معاملے کے سلسلے میں مغربی بنگال، دہلی، اتر پردیش اور ہریانہ سمیت کئی مقامات پر بڑے پیمانے پر چھاپے مارے۔ یہ چھاپہ ماری ایک منظمگروہ پر بین الاقوامی سرحد سے غیر قانونی دراندازی، فرضی آدھار، پین کارڈ اور پاسپورٹ بنوانے اور غیر ملکی رقم کی مدد سے دراندازوں کو ملک میں آباد کرانے کے الزام میں کی گئی ہے ۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے لکھنو¿ زونل آفس نے منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) 2002 کے تحت جمعرات کو کولکاتا، شمالی 24 پرگنہ، جنوبی 24 پرگنہ اور مرشد آباد (مغربی بنگال)، فرید آباد (ہریانہ)، دیوبند (سہارنپور، اتر پردیش)، دہلی اور دیگر مقامات پر تلاشی لی۔ چھاپے کے دوران ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور دیگر مجرمانہ مواد قبضے میں لے کر ان کی جانچ کی جا رہی ہے۔ متعلقہ افراد کے بیانات بھی قلمبند کیے جا رہے ہیں۔

ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ایک منظم سنڈیکیٹ روہنگیا اور بنگلہ دیشی شہریوں کو غیر قانونی طور پر بھارت میں داخلہ دلانے کے بعد ان کی شناخت تبدیل کرنے کا کام کر رہا تھا۔ اس کے لئے فرضی آدھار کارڈ، پین کارڈ اور پاسپورٹ تیار کروائے جاتے تھے۔ اس کے بعد ان افراد کو روزگار یا دیگر مقاصد کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں بھیجا جاتا تھا۔

ای ڈی کے مطابق، تحقیقات میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے) کے تحت رجسٹرڈ کچھ پبلک چیریٹی ٹرسٹ اس نیٹ ورک سے منسلک تھے۔ ان ٹرسٹوں کو برطانیہ میں مقیم اداروں سے فنڈز موصول ہوتے تھے، جسے بعد میں چھ ہزار، آٹھ ہزار اور دس ہزار روپے جیسی چھوٹی موٹی قسطوں میں مشتبہ افراد کو بھیجا جاتا تھا، تاکہ انہیں ہندوستان میں آباد کرانے میں مدد مل سکے۔

ایجنسی نے کہا کہ فنڈزکا حتمی استعمال غیر قانونی تارکین وطن کی اقتصادی بحالی کے لیے کیا جاتا تھا، جس سے وہ ہندوستان میں مستقل طور پر آباد ہو سکیں۔اس کے تحت کچھ لوگوں کو ای رکشا خریدنے کے لئے رقم، روزگار کے مواقع یا نقد امداد کے لیے فنڈز فراہم کیے جاتے تھے۔ ای ڈی کے مطابق، مغربی بنگال کے سرحدی اضلاع میں سرگرم ایک گروہ غیر قانونی دراندازی کروانے میں مدد کرتا تھا، جبکہ دوسرا گروہ ان دراندازوں کے لئے فرضی دستاویز تیار کرنے کا کام کرتا تھا۔ دونوں گروپوں کے درمیان ہم آہنگی کے ذریعے غیر قانونی تارکین وطن کو ملک کے مختلف حصوں میں بھیجا جاتا تھا۔

تلاشی مہم میں شمالی 24پرگنہ واقع کبیر باغ ملت اکیڈمی،ہرووا الجمعیة الاسلامیہ دارالعلوم، طاہریہ ویلفیئر ٹرسٹ، جنوبی دہلی کے بٹلہ ہاو¿س علاقے میں کچھ رہائشی احاطے، فرید آباد، دیوبند اور مغربی بنگال کے مختلف اضلاع میں واقع کئی افراد اور اداروں کے ٹھکانے شامل تھے۔ ای ڈی نے کہا کہ ضبط کیے گئے ڈیجیٹل شواہد اور دستاویزات کی تفصیل سے جانچ کی جا رہی ہے اور اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande