روہنگیا-بنگلہ دیش دراندازی نیٹ ورک کے سلسلے میں ای ڈی نے بنگال، دہلی، ہریانہ سمیت کئی ریاستوں میں چھاپے مارے
نئی دہلی، 16 جولائی (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جمعرات کو دہلی، اتر پردیش، ہریانہ اور مغربی بنگال سمیت کئی ریاستوں میں غیر ملکی فنڈنگ اور روہنگیا اور بنگلہ دیشی شہریوں کی دراندازی کے نیٹ ورک سے متعلق منی لانڈرنگ معاملہ کے سلسلے میں چھاپ
بنگلہ


نئی دہلی، 16 جولائی (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جمعرات کو دہلی، اتر پردیش، ہریانہ اور مغربی بنگال سمیت کئی ریاستوں میں غیر ملکی فنڈنگ اور روہنگیا اور بنگلہ دیشی شہریوں کی دراندازی کے نیٹ ورک سے متعلق منی لانڈرنگ معاملہ کے سلسلے میں چھاپے مارے۔ اس دوران مغربی بنگال کے کلیلکا پور میں واقع حرورا الجامعتہ الاسلامیہ دارالعلوم سے 40 لاکھ روپے نقد اور 180 گرام وزنی سونے کے سکے برآمد ہوئے۔ ای ڈی نے کہا کہ اس رقم اور سونے کے بارے میں احاطے کے انچارج شخص سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا، جس کے بعد اسے منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ-2002 کی دفعہ 17 کے تحت ضبط کیا گیا۔

ای ڈی نے کہا کہ چھاپے کے دوران ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور دیگر مجرمانہ مواد ضبط کیا گیا، جن کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ملوث افراد کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔ ایجنسی نے بتایا کہ یہ کارروائی بین الاقوامی سرحدوں کے ذریعے غیر قانونی دراندازی، جعلی آدھار کارڈ، پین کارڈ اور پاسپورٹ بنانے اور غیر ملکی فنڈز کی مدد سے ہندوستان میں دراندازوں کو آباد کرنے میں ملوث ایک منظم گروہ کے خلاف کی گئی۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے) کے تحت رجسٹرڈ کچھ پبلک چیریٹی ٹرسٹ اس نیٹ ورک میں ملوث تھے۔ ان ٹرسٹوں کو برطانیہ میں مقیم اداروں سے فنڈز موصول ہوئے، جو پھر مشتبہ افراد کو ہندوستان میں مستقل طور پر آباد ہونے میں مدد کے لیے چھوٹی قسطوں میں بھیجے گئے۔ یہ رقم ای-رکشا خریدنے، روزگار فراہم کرنے اور نقد امداد فراہم کرنے جیسے مقاصد کے لیے استعمال کی گئی۔

ای ڈی کے مطابق، مغربی بنگال کے سرحدی اضلاع میں کام کرنے والے ایک گروہ نے غیر قانونی دراندازی کی سہولت فراہم کی، جب کہ دوسرے گروہ نے ان دراندازوں کے لیے جعلی دستاویزات تیار کیں۔ دونوں گروپوں کے درمیان ہم آہنگی کے ذریعے غیر قانونی تارکین وطن کو ملک کے مختلف حصوں میں بھیجا گیا۔

تلاشی مہم کے دوران جن اہم مقامات کا احاطہ کیا گیا ان میں شمالی 24 پرگنہ میں واقع کبیر باغ ملت اکیڈمی، حرورا الجامعتہ الاسلامیہ دارالعلوم، طاہریہ ویلفیئر ٹرسٹ، جنوبی دہلی کے بٹلہ ہاو¿س علاقے میں کچھ رہائشی احاطے، فرید آباد، دیوبند اور مغربی بنگال کے مختلف ضلعوں میں واقع کئی افراد اور اداروں کے احاطے شامل ہیں۔ ای ڈی نے کہا کہ ضبط کیے گئے ڈیجیٹل ثبوتوں اور دستاویزات کی تفصیل سے جانچ کی جا رہی ہے اور اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande