
ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی شروع، 20 سے زیادہ جنگی جہاز اور سینکڑوں فوجی طیارے محاذ پر، خلیجی ممالک پر حملہ
واشنگٹن/تہران، 15 جولائی (ہ س)۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔ 20 سے زیادہ جنگی جہازوں اور سینکڑوں فوجی طیاروں سے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں سے گزرنے والے جہازوں کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) نے مقامی وقت کے مطابق منگل کے روز ایکس پوسٹ میں یہ اعلان کیا۔ اس دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 فیصد ٹیرف کے اپنے فیصلے کو بدل دیا ہے۔ امریکہ نے ایران پر چوتھی رات حملے کیے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کویت، بحرین اور جارڈن (اردن) میں امریکی ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں دو بڑے تیل کے ٹینکروں پر بھی حملے کیے۔
الجزیرہ اور سی بی ایس نیوز کے مطابق، امریکہ نے منگل کی دوپہر ایرانی بندرگاہوں پر پھر سے ناکہ بندی شروع کر دی۔ شپنگ انڈسٹری کی شدید مخالفت کے بعد صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کارگو پر 20 فیصد ٹول لگانے کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔ اس کی جگہ خلیجی ممالک کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایران نے بھی آبنائے ہرمز کے استعمال کے لیے اپنا ٹول وصول کرنے کے امکان سے انکار نہیں کیا ہے اور بغیر اجازت اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کو دھمکی بھی دی ہے۔ تازہ جنگ سے گزشتہ دو دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
سینٹکام نے کہا ہے کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے 20 سے زیادہ جنگی جہاز اور سینکڑوں فوجی طیارے تعینات ہیں۔ سینٹکام نے کہا کہ ناکہ بندی شام 4 بجے (مشرقی وقت) پھر سے نافذ کی گئی۔ اس دوران امریکی فوج نے ایرانی صلاحیتوں کو کم کرنے کے لیے آپریشن جاری رکھا۔ اس سے پہلے، سینٹکام نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف ایک اور دور کے حملے شروع کیے ہیں۔ سینٹکام نے ایک علیحدہ پوسٹ میں کہا، ’’آج دوپہر 3 بجے (مشرقی وقت) امریکی افواج نے ایران کے خلاف حملے شروع کیے۔‘‘
امریکی فوج نے ان حملوں میں شامل مقامات یا اہداف کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں۔ یہ سلسلہ واقعہ سمندری سیکورٹی اور آبنائے ہرمز (جو عالمی توانائی کی نقل و حمل کا اہم راستہ ہے) میں تجارتی جہازوں پر حملوں کو لے کر واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناو کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے دن میں سینٹکام نے بتایا کہ امریکی فوج نے 13 جولائی کو رات 10.15 بجے (مشرقی وقت) ایران کے فوجی ڈھانچے پر ایک اور منظم حملے کا دور مکمل کیا۔ پانچ گھنٹے جاری رہنے والے اس آپریشن میں ایران کے جنوبی ساحل پر واقع بوشہر، چابہار، جاسک، کونارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس میں اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کے ساحلی دفاعی نظام، میزائل لانچ انفراسٹرکچر، ڈرون ٹھکانوں اور بحری صلاحیتوں کو ناکارہ بنانے کے لیے درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔
اس کے بعد ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے امریکی حملوں کے جواب میں اپنے ’’آپریشن نصر 2‘‘ کے تیسرے مرحلے کے دوران بحرین اور کویت میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری طرف، امریکہ نے منگل کے روز ایران کے شپنگ کاروباری محمد حسین شامخانی سے مبینہ طور پر منسلک درجنوں افراد، کمپنیوں اور جہازوں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ ایران کے ایک سیکورٹی اہلکار کے بیٹے شامخانی کو امریکی محکمۂ خزانہ نے بڑے شپنگ امپائر کا سربراہ بتایا ہے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ وہ ایران اور روس کا تیل لے جاتا ہے۔ ٹریژری سکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے اس کی تصدیق کی۔
امریکہ کے حملے کے درمیان ایران کے بندر عباس اور سیرک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ سیرک اور بندر عباس آبنائے ہرمز کے کنارے واقع ہیں اور ایران کے خلاف امریکی مہم کے دوران اکثر نشانے پر رہتے ہیں۔ کویت کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے درجنوں ڈرون اور میزائلوں کو روکا ہے۔ ایران نے اس کے جنگی جہاز پر حملہ کیا۔ اس حملے میں چار فوجی زخمی ہو گئے۔ کویتی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے منگل کی شام 33 ڈرون، پانچ کروز میزائل اور ایک بیلسٹک میزائل کو روک دیا۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے عراق کی سرحد کے پاس واقع ایلام صوبے کے جنوب مغربی حصے میں دہلوران شہر پر امریکہ کے پروجیکٹائل سے حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایجنسی نے بتایا کہ ممکنہ نقصان کے بارے میں ابھی کوئی اور معلومات نہیں ہیں۔ سینٹکام نے ایران پر پورے خطے میں شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ان حملوں میں تقریباً ایک درجن شہری اور عملے کے اراکین ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے پڑوسی خلیجی ممالک کی طرف درجنوں میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن