
لندن، 15 جولائی (ہ س): برطانیہ کے شہر پیٹربرو میں واقع تقریباً 40 سال پرانے رام مندر کی زمین سے متعلق تنازع اب ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ پیٹربرو سٹی کونسل کی جانب سے مندر کے احاطے کو یو کے اسلامک مشن (یو کے آئی ایم ) کو فروخت کرنے کے فیصلے کے خلاف ہندو تنظیم بھارت ہندو سماج (بی ایچ ایس) نے جوڈیشل ریویو کی درخواست دائر کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران پیٹربرو سٹی کونسل کی وکیل کیتھرین رولینڈز نے مؤقف اختیار کیا کہ مندر کی زمین یو کے اسلامک مشن کو فروخت کرنے کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا گیا ہے اور اسے غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فیصلے میں متعلقہ برادری کی مذہبی شناخت کو ضرور مدنظر رکھا جاتا ہے، لیکن صرف اسی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
سٹی کونسل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت بھارت ہندو سماج کو مندر کے احاطے میں کرایہ داری کا حق حاصل ہے اور وہ تعمیرِ نو کا کام شروع ہونے تک وہاں رہ سکتا ہے۔ اس کے بعد تنظیم کو احاطہ خالی کرنا ہوگا۔ کونسل نے یہ بھی کہا کہ وہ ہندو برادری کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ یہ برادری پیٹربرو میں برقرار رہے۔
سماعت کے دوران عدالت میں ہندو برادری کے بڑی تعداد میں افراد موجود تھے۔ کئی افراد جے شری رام لکھی ہوئی ٹی شرٹس پہن کر عدالت پہنچے۔ کونسل کے دلائل پر عدالت کی عوامی گیلری میں موجود بعض افراد نے اپنی ناراضی اور اختلاف کا بھی اظہار کیا۔
سماعت کے دوران جج نے سوال اٹھایا کہ اگر یو کے اسلامک مشن نے اس منصوبے کے لیے فنڈ جمع کرنے کی آخری مدت 2035 مقرر کی تھی، تو پھر زمین کی فروخت کا فیصلہ اتنی جلدی کیوں کیا گیا؟ اس پر کونسل کی جانب سے کہا گیا کہ منصوبے کے لیے فنڈنگ کسی بھی وقت دستیاب ہو سکتی ہے، اسی بنیاد پر یہ فیصلہ لیا گیا۔
واضح رہے کہ پیٹربرو سٹی کونسل نے 10 فروری کو مندر کی زمین فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بھارت ہندو سماج، جو 1986 سے اس احاطے کے ایک حصے میں کرایہ دار کی حیثیت سے رام مندر چلا رہا ہے، گزشتہ دس برسوں سے اس جائیداد کو خریدنے کے لیے کونسل سے بات چیت کر رہا تھا۔
رام مندر کی ٹرسٹی گوری چودھری نے بتایا کہ مندر کی زمین محفوظ رکھنے کے لیے ایک ہندو ٹرسٹ نے 14 لاکھ پاؤنڈ کی بولی لگائی تھی۔ انہوں نے کہا، ہم برطانیہ کے قدیم ترین رام مندروں میں سے ایک کو بچانے کے لیے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ تاہم سٹی کونسل نے زیادہ بولی کا حوالہ دیتے ہوئے زمین یو کے اسلامک مشن کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔
گوری چودھری کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے علاقے کے ہزاروں ہندوؤں کے مذہبی جذبات متاثر ہوں گے۔ پیٹربرو اور اس کے اطراف میں رہنے والے 18 ہزار سے زائد ہندو اس مندر سے وابستہ ہیں اور یہ تقریباً 50 کلومیٹر کے دائرے میں واقع نمایاں ہندو عبادت گاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانونی جدوجہد کے دوران انہیں مختلف حلقوں سے بھرپور حمایت حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پورے علاقے میں پہلے ہی 30 مساجد موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 19 مساجد صرف پیٹربرو شہر میں واقع ہیں۔ ان کے مطابق اس معاملے کا موازنہ بابری مسجد تنازع سے بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک بات ہے، تاہم اس نوعیت کے تنازعات پہلے بھی گرجا گھروں، یہودی عبادت گاہوں (سینیگاگ) اور دیگر مذہبی مقامات کے ساتھ پیش آ چکے ہیں۔
گوری چودھری نے کہا کہ مندر کی زمین کے تحفظ کے لیے گزشتہ 14 برسوں سے کوششیں جاری تھیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ حال ہی میں تشکیل پانے والی سٹی کونسل انتظامیہ کے فیصلے کے بعد یہ تنازعہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد