
مدورائی، 13 جولائی (ہ س) مدورائی کے قریب پیر کی صبح ایک سرکاری بس اور ایک پرائیویٹ 'اومنی' بس کے درمیان زبردست ٹکر میں ایک خاتون سمیت پانچ افراد کی موت ہو گئی۔ دونوں بسوں کے اکتالیس مسافروں کو شدید چوٹیں آئیں اور انہیں ابتدائی طور پر ابتدائی طبی امداد کے لیے میلور کے سرکاری اسپتال بھیجا گیا۔ اس کے بعد انہیں بہتر علاج کے لیے مدورائی کے راجا جی سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
یہ حادثہ مدورائی ضلع کے کوٹم پٹی کے ونجی نگرم گاو¿ں کے قریب چار لین ہائی وے پرپیش آیا۔ حادثہ صبح سویرے اس وقت پیش آیا جب دونوں بسیں تیز رفتاری سے چل رہی تھیں۔ نجی اومنی بس، جو چنئی سے مارتھنڈم جا رہی تھی، ونجی نگرم گاو¿ں کے قریب پہنچتے ہی کنٹرول کھو بیٹھی۔ بے قابو بس پہلے سڑک کے ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی۔ اس کے بعد یہ مخالف لین میں گھس گئی اور مدورائی سے تروچیراپلی جانے والی ایک سرکاری بس سے ٹکرا گئی۔
سرکاری بس سے ٹکرانے کے بعد، پرائیویٹ اومنی بس بائیں طرف مڑی اور ونجی نگرم گاو¿ں میں عوام کے زیر استعمال مسافروں کے انتظار گاہ (بس شیلٹر) سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہشیلٹر مکمل طور پر منہدم ہو کر تباہ ہو گئی۔ حادثے میں دونوں بسوں کے اگلے حصے مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ خاتون سمیت 5 افراد موقع پر ہی جاں بحق اور دونوں بسوں کے 41 مسافر شدید زخمی ہوگئے۔ کوٹم پٹی پولیس اور مقامی باشندوں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو بچایا اور ابتدائی علاج کے لیے میلور کے سرکاری اسپتال پہنچایا۔
میلور کے سرکاری اسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد تمام زخمیوں کو مزید طبی دیکھ بھال کے لیے مدورائی کے راجا جی سرکاری اسپتال میں داخل کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے حادثے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا صبح سویرے ہونے کی وجہ سے کہیں ڈرائیورکو نیند تو نہیں آئی گئی تھی جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ حادثے کے نتیجے میں قومی شاہراہ پر ٹریفک کئی گھنٹے تک درہم برہم رہی۔
سٹی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس ابھینو کمار اور ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) دیو ناتھن جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس متوفیوں کی شناخت اور ان کی تفصیلات جمع کرنے کا کام کر رہی ہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مدورائی کے ضلع کلکٹر نشانت کرشنا نے زخمیوں سے ملنے اور ان کا حال جاننے کے لیے میلور کے سرکاری اسپتال کا دورہ کیا۔ انہوں نے زخمیوں کے لیے تعزیتی کلمات پیش کیے اور ڈاکٹروں سے ان کے علاج اور صحت کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی