جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کو دو سال قید کی سزا
سیول، 13 جولائی (ہ س)۔ جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کو ”آزاد رائے شماری“ کے معاملے میں سیاسی فنڈز کے قانون کی خلاف ورزی کا قصوروار قرار دیتے ہوئے سیول سنٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے انہیں دو سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے ان کے خلاف 13.96 ملین وون (تقر
South-Korea-Former-President-Yoon-Suk-yeol-sentenc


سیول، 13 جولائی (ہ س)۔ جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کو ”آزاد رائے شماری“ کے معاملے میں سیاسی فنڈز کے قانون کی خلاف ورزی کا قصوروار قرار دیتے ہوئے سیول سنٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے انہیں دو سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے ان کے خلاف 13.96 ملین وون (تقریباً 8.93 لاکھ روپے) ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔

جنوبی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق، اسپیشل پراسیکیوٹر من جونگ کی ٹیم نے الزام عائد کیا کہ یون سک یول اور ان کی اہلیہ کم کیون نے ہی اپریل 2021سے مارچ 2022کے درمیان پاور بروکر میونگ تائے- کیون سے تقریباً 270 ملین وون (تقریباً 17.2 ملین روپے) کے 58 اوپینین پول مفت میں حاصل کیے تھے۔ تاہم عدالت نے تمام الزامات کو قبول نہیں کیا۔ عدالت نے تسلیم کہ یون نے اس عرصے کے دوران 14 اوپینین پول مفت میں کئے تھے ، جو غیر قانونی سیاسی فنڈنگ کے دائرے میں آتے ہیں۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ یون نے ان رائے شماریوں کے بدلے جون 2022 کے پارلیمانی ضمنی انتخاب میںکنزرویٹوپیپلز پاور پارٹی کے امیدوار کے طور پر سابق قانون ساز کم ینگ -سن کی نامزدگی کی حمایت کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ملزم کی حرکتوں سے عوام کا سیاست پر اعتماد کمزور ہوا ہے اور جمہوری نظام پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، اس لیے جرم کے مطابق سزا دینا ضروری ہے۔

پاور بروکر میونگ تائی کیون کو بھی اسی کیس میں 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ۔ استغاثہ نے یون کے لیے چار سال اور میونگ کے لیے تین سال کی سزا کی مانگ کی تھی۔

یہ فیصلہ اس الگ معاملے سے مختلف ہے جس میں سابق خاتون اول کم کیون ہی کو اسی طرح کے الزامات سے سیول ہائی کورٹ نے بری کر دیا تھا۔ استغاثہ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے۔ یون کے وکلاءنے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ موجودہ فیصلے کو چیلنج کریں گے۔

قابل غور ہے کہ یون سک یول کو پہلے ہی کئی قانونی مقدمات کا سامنا ہے۔ انہیں پہلے ہی 2024 میں مارشل لا لگانے کی ناکام کوشش سے متعلق بغاوت کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande