
نئی دہلی، 13 جولائی (ہ س) سپریم کورٹ کل بروزمنگل 14 جولائی کو دھار میں بھوج شالا مندر-کمال مولا مسجد معاملہ میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مسلم فریق کی درخواست پر سماعت کرے گا۔
پیر کے روز، مسلم فریق کی نمائندگی کرنے والے وکیل حذیفہ احمدی نے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے ذکر کیا کہ اس معاملہ سے متعلق دیگر درخواستیں 14 جولائی کے لئے لسٹ کی گئی ہیں، لیکن مسلم فریق کی عرضی درج نہیں ہے۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے مسلم فریق کی درخواست کو بھی14 جولائی کو لسٹکرنے کا حکم دیا۔
اس معاملے میں ہندو فریق جتیندر سنگھ ویسین نے سپریم کورٹ میں کیویٹ دائر کیا ہے۔ ویسین نے درخواست کی ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر ہونے کی صورت میں معاملہ میں ان کا رخ سنے بغیر کوئی حکم جاری نہ کیا جائے۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ بھوج شالہ میں متنازعہ جگہ دیوی سرسوتی سے منسلک مندر ہے۔ ہائی کورٹ نے 7 اپریل 2003 کے اس حکم کو رد کر دیا تھاجس کے تحت مسلمانوں کو بھوج شالہ کمپلیکس میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ہندو تنظیموں کے مطابق دھار میں واقع کمال مولانا مسجد دراصل سرسوتی مندر بھوج شالہ ہے جسے سنسکرت کی تعلیم کے لیے بادشاہ بھوج نے 1034 میں تعمیر کیا تھا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی