
پٹنہ، 13 جولائی (ہ س)۔پٹنہ سول کورٹ نے پیرکے روز استاذ اور یوٹیوبرخان سر(فیضل خان) کو ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے باہر فائرنگ معاملے میں پیشگی ضمانت دے دی۔ عدالت نے معاملے میں مجموعی طور پر چھ لوگوں کو راحت دی، جن میں خان سر، ان کے تین ملازمین اور دو سیکورٹی گارڈ شامل ہیں۔ خان سر کے وکیل اروند کمار مور نے کہا کہ عدالت نے پہلے خان سر کی پیشگی ضمانت کی درخواست منظور کی۔ اس کے بعد ان کے تین ملازمین کو بھی پیشگی ضمانت مل گئی۔ دونوں سیکورٹی گارڈ، جو اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں، کی باقاعدہ ضمانت کی درخواستیں بھی منظور کرلی گئیں۔ وکیل نے کہا کہ پولیس نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کیں اور اصل حقائق کیس ڈائری میں درج کئے۔ ان کے مطابق تفتیش کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر عدالت نے فیصلہ دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ گیان بندو کوچنگ ڈائریکٹر روشن آنند اور ان کے دو ساتھیوں کی گرفتاری سے شروع ہوا تھا۔ پولیس نے تینوں کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ بعد ازاں عدالت نے انہیں ضمانت پررہا کر دیا۔ اس کے بعد تحقیقات کے دوران خان گلوبل اسٹڈیز کے دو سیکورٹی گارڈ پردیپ کمار اور تلبر سنگھ کو بھی گرفتار کرکے بیور جیل بھیج دیا گیا۔ دونوں تب سے عدالتی حراست میں تھے اور اب عدالت نے انہیں باقاعدہ ضمانت دے دی ہے۔ تفتیش کے دوران ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر میں فیصل خان المعروف خان سر کو بھی شامل کرلیا۔ ان پراوران کے سیکورٹی گارڈکی طرف سے فائرنگ کا الزام لگایا گیا تھا، اور اس واقعے میں ان کے کردار کی تحقیقات کی گئی ہے۔ تاہم عدالت نے اس سے قبل ان کی گرفتاری پر عبوری روک لگا دی تھی۔ پولیس کی تفتیش کے دوران کئی نکات کا جائزہ لیا گیا جن میں سیکورٹی گارڈ کے ہتھیار اور واقعے میں ان کا مبینہ استعمال شامل ہے۔ اب پٹنہ سول کورٹ کے تازہ حکم کے ساتھ خان سر، ان کے تین ملازمین اور دو سیکورٹی گارڈ کو قانونی راحت ملی ہے۔ حالانکہ معاملہ کی تفتیش اور عدالتی عمل جاری رہے گی ۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan