امریکی فوج کا ایران پر تیسرے مرحلے کی فضائی کارروائیوں کے اختتام کا اعلان
واشنگٹن،12جولائی(ہ س)۔امریکی فوج نے اتوار کے روزایران کو نشانہ بنانے والی فوجیوں کارروائیوں کے تیسرے مرحلہ کے مکمل ہونے اعلان کیا ۔فوج کے مطابق گزشتہ دنوں اس کی افواج نے ایران کے اندر موجود اہداف کے خلاف فضائی اور بحری کارروائیوں میں سے ایک وسیع تر
امریکی فوج کا ایران پر تیسرے مرحلے کی فضائی کارروائیوں کے اختتام کا اعلان


واشنگٹن،12جولائی(ہ س)۔امریکی فوج نے اتوار کے روزایران کو نشانہ بنانے والی فوجیوں کارروائیوں کے تیسرے مرحلہ کے مکمل ہونے اعلان کیا ۔فوج کے مطابق گزشتہ دنوں اس کی افواج نے ایران کے اندر موجود اہداف کے خلاف فضائی اور بحری کارروائیوں میں سے ایک وسیع ترین آپریشن انجام دیا، جس میں 300 سے زائد فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا کہ حملوں کے تیسرے دور کا اختتام تقریباً 140 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد ہوا۔ ان حملوں میں زمینی اور بحری اڈوں سے اڑان بھرنے والے لڑاکا طیاروں کے علاوہ ڈرون طیاروں اور جنگی بحری جہازوں سے بھی جدید اور ہدفی نوعیت کا اسلحہ استعمال کیا گیا۔سینٹکام کے مطابق جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ان میں میزائل اور ڈرون لانچ کرنے کے مقامات، بحری تنصیبات، اسلحہ کے گودام، فوجی ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورکس اور ایرانی ساحلی علاقوں میں نگرانی اور رصد کے مراکز شامل تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس آپریشن کا مقصد ان ایرانی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا جو بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق امریکی افواج نے مسلسل تین راتوں کے دوران ایران کے اندر 300 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست ہدایت پر کی گئیں۔بیان میں کہا گیا کہ یہ فوجی کارروائیاں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی جہاز رانی پر حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کرنے کے لیے کی گئیں۔اس کا بنیادی مقصد تہران کی اس صلاحیت کو محدود کرنا تھا کہ وہ شہری بحری عملے اور دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک استعمال کرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا سکے۔سینٹکام کے مطابق حالیہ کارروائی اُس واقعے کے بعد کی گئی جب آبنائے ہرمز میں قبرص کے جھنڈے والی ایک کنٹینر بردار جہاز پر حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی، انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ عملے کا ایک رکن لاپتا ہو گیا۔فوجی کشیدگی میں اضافے کے باوجود امریکی فوج نے زور دے کر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔امریکی فوج کے مطابق اس کی افواج اس اہم سمندری گزرگاہ میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ مئی کے آغاز سے اب تک امریکی افواج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 800 سے زائد تجارتی جہازوں کی محفوظ راہداری میں مدد فراہم کی ہے۔اس کے علاوہ 400 ملین بیرل سے زائد خام تیل بھی اس راستے سے منتقل ہوا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ فوجی تناو کے باوجود توانائی کی برآمدات کا بہاو برقرار ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین اسٹریٹجک گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، کیونکہ عالمی تیل تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔امریکی اعلان تیسرے مرحلے کے حملوں کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا، جن میں ایران کے جنوبی ساحل پر واقع متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان اہداف میں فوجی اڈے اور مواصلاتی تنصیبات شامل تھیں، جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی اعتراف کیا کہ اس کے کئی ساحلی اڈے بمباری کا نشانہ بنے۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بوشہر، بندر عباس، سیریک، عسلویہ، کنارک، چابہار اور جزیرہ قشم میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔تاہم ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande