امریکی وزیردفاع کی ایران کو دھمکی ،کہاایران نے غلط انتخاب کیا ہے
واشنگٹن،12جولائی(ہ س)۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کے خلاف سخت لہجے میں دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے غلط انتخاب کیا ہے اور اب اسے اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ یہ بیان امریکی سینٹ کام کی جانب سے ان فضائی حملوں کے تیسرے مرحلے کے خاتمے کے
امریکی وزیردفاع کو ایران کی دھمکی ،کہاایران نے غلط انتخاب کیا ہے


واشنگٹن،12جولائی(ہ س)۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کے خلاف سخت لہجے میں دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے غلط انتخاب کیا ہے اور اب اسے اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ یہ بیان امریکی سینٹ کام کی جانب سے ان فضائی حملوں کے تیسرے مرحلے کے خاتمے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں ایرانی عسکری مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔ہیگسیتھ نے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایران نے برا انتخاب کیا اور اب وہ قیمت ادا کر رہا ہے۔ یہ تبصرہ اس عسکری کارروائی کے اعلان کے ساتھ سامنے آیا جو ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی گئی۔ سینٹ کام کے بیان کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے اندر تقریباً 140 عسکری اہداف کو نشانہ بنایا جن میں میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس، اسلحہ کے گودام، مواصلاتی نیٹ ورک اور ساحلی نگرانی کی تنصیبات شامل ہیں۔سینٹ کام نے مزید کہا کہ اس ہفتے کے دوران تین کارروائیوں میں نشانہ بنائے گئے کل اہداف کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ کارروائیاں قبرص کے جھنڈے والے کنٹینر جہاز ''ایم وی جی ایف ایس گلیکسی'' پر حملے کے بعد کی گئیں۔ حملے کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا اور ایک عملے کا رکن لا پتا ہو گیا۔ امریکی حکام نے اس عمل کو بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا۔دوسری طرف ایران نے بھی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ پاسداران انقلاب نے قطر میں امریکی اڈے العدید، سلطنت عمان کی بندرگاہ الدقم میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کے لوجسٹک مراکز اور قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات پر ڈرون اور میزائل حملوں کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ یک طرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنے وعدے پورے کرو یا قیمت ادا کرو۔اس کشیدگی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ عارضی مفاہمت کی یاد داشت کے خاتمے کے اعلان کے بعد اضافہ ہوا ہے۔ جیسے جیسے جوابی حملے جاری ہیں، خطے کے وسیع تر تصادم میں پھنس جانے کے خدشات بڑھ رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande