قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کا74 سال کی عمر میں انتقال
دوحہ، 12 جولائی (ہ س)۔ موجودہ امیر قطر کے والد اور سابق حکمراں شیخ حمد بن خلیفہ الثانی 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ قطر کے امیر دیوان نے اتوار کو ان کے انتقال کا اعلان کیا۔ ایک بیان میں امیر دیوان نے اس سانحے پرغم کا اظہار کیا اور مرحوم شیخ حم
سیخ


دوحہ، 12 جولائی (ہ س)۔ موجودہ امیر قطر کے والد اور سابق حکمراں شیخ حمد بن خلیفہ الثانی 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ قطر کے امیر دیوان نے اتوار کو ان کے انتقال کا اعلان کیا۔

ایک بیان میں امیر دیوان نے اس سانحے پرغم کا اظہار کیا اور مرحوم شیخ حمد کی روح کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی۔

شیخ حمد نے 1995 سے 2013 تک قطر پر حکومت کی۔ ان کے دور کو ملک کے لیے تیز رفتار اقتصادی اور سماجی ترقی کا دور سمجھا جاتا ہے۔ انہیں قدرتی گیس اور توانائی کے وسائل سے مالا مال قطر کو عالمی سطح پر ایک بااثر ملک میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کا سہرا جاتا ہے۔

اپنے دور میں قطر نے بنیادی ڈھانچے، تعلیم، ثقافت اور بین الاقوامی سفارت کاری میں تیزی سے ترقی کی۔ آج، قطر کا اثر پورے مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ شمالی افریقہ اور ایشیا تک پھیلا ہوا ہے۔

بین الاقوامی نیوز نیٹ ورک الجزیرہ کا آغاز 1996 میں شیخ حمد کے دور میں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ، قطر کا پہلا مستقل آئین 2004 میں نافذ کیا گیا تھا۔ ان کے دور اقتدار میں میونسپل انتخابات کا آغاز بھی ہوا، جس میں خواتین کو ووٹ ڈالنے اور عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا حق دیا گیا۔

ان کی قیادت میں قطر نے عالمی سطح پر اپنا موقف مضبوط کیا۔ قطر نے 2022 میں مردوں کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کی، جو ملک کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے۔ ٹورنامنٹ کے دوران شائقین کی جانب سے شیخ حمد کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

2013 میں شیخ حمد نے اقتدار اپنے بیٹے شیخ تمیم بن حمد الثانی کو سونپ دیا، جن کی عمر اس وقت 33 سال تھی۔ یہ خلیجی خطے میں موروثی حکمراں کی رضاکارانہ طور پر اقتدار کی منتقلی کی ایک نادر مثال سمجھی جاتی ہے۔ شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کا شمار ان گراں قدر لیڈروں میں ہوتا ہے جو جدید قطرکی تعمیر اور اس کی عالمی شناخت قائم کرنے میں اہم حیثیت کے حامل ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande