
تہران، 12 جولائی ( ہ س ) : ایران نے دعوی کیا ہے کہ اس کی فوج اورسپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے جنوبی ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں اردن، کویت، بحرین اور قطر میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر انتقامی میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ اس نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ مزید فوجی کارروائی کرتا ہے تو اس کا مزید سخت جواب دیا جائے گا۔
ایران کی سرکاری پریس ٹی وی نیوز سروس کے مطابق، آئی آر جی سی نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں الزام لگایا کہ امریکہ نے عمان پر دباؤ ڈال کر اور آبنائے ہرمز کے جنوب میں جہازوں کی نقل و حرکت میں اضافہ کر کے تناؤ پیدا کیا۔ آئی آر جی سی کا دعوی ہے کہ ایرانی بحریہ نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا، جس کے بعد امریکہ نے جنوبی ایران میں ساحلی اڈوں اور مواصلاتی ٹاوروں پر فضائی حملے کیے۔
ایران کے مطابق جوابی کارروائی کے پہلے مرحلے میں آئی آر جی سی کی ایرو اسپیس فورس نے اردن کے پرنس حسن ایئر بیس پر حملہ کیا۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں قطر میں امریکی العدید ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ایران کا دعوی ہے کہ اس حملے سے طیاروں کی دیکھ بھال اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو نقصان پہنچا ہے۔
ایک علیحدہ بیان میں ایرانی فوج نے کہا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر خودکش ڈرون حملے کیے۔ فوج کے مطابق، پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم، گولہ بارود کے ڈپو اور ریڈار سائٹس کو کویت میں نشانہ بنایا گیا، جبکہ ڈرون حملوں نے بحرین میں امریکی مواصلات اور ریڈار کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
ایران نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے فوجی کارروائی جاری رہی تو اس کا جواب مزید شدید ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کو بڑھانے کی ذمہ داری امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر ہوگی۔
اس درمیان امریکی سنٹرل کمان (سینٹکام) نے کہا کہ جنوبی ایران میں فوجی کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی گئی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز پر کنٹرول قائم کرنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی حملوں کے بعد صوبہ بوشہر کے علاقے اسلویہ اور بندر دیار میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس سے قبل، آئی آر جی سی بحریہ نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز اگلے احکامات تک بند رہے گا اور جب تک امریکہ خطے میں اپنی فوجی سرگرمیاں بند نہیں کرتا اسے کھولا نہیں جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
-------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد