
واشنگٹن/تہران، 12 جولائی (ہ س)۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے الزام لگایا ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے آبنائے ہرمز میں ایک کمرشل کارگو جہاز پر حملہ کیا، جس سے ایک سویلین عملے کا رکن لاپتہ ہو گیا اور جہاز کو بھاری نقصان پہنچا۔ اس کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف اس ہفتے فوجی حملوں کا تیسرا دور شروع کرنے کا اعلان کیا۔
ترکیہ کی سرکاری خبر رساں سروس ’انادولو ایجنسی‘ کے مطابق سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی طرف سے ایم/وی جی ایف ایس گیلیکسی پر حملہ کیے جانے کے جواب میں امریکی افواج نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی شروع کی۔ امریکی فوج کے مطابق، یہ مہم مقامی وقت کے مطابق ہفتہ کی شام 7.15 بجے شروع ہوئی۔
امریکی بیان کے مطابق، حملے میں جہاز کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، جہاز میں آگ لگ گئی اور وہ اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔ ساتھ ہی، عملے کا ایک رکن اب بھی لاپتہ بتایا گیا ہے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق، ایک امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اس وقت کارگو جہاز پر میزائل داغا، جب وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اہلکار کے مطابق، اس حملے سے جہاز کو شدید نقصان پہنچا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایک دن پہلے ہی ایران سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کی عوامی ضمانت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی اہم شرط مانا جا رہا تھا۔
ہفتہ کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی اور قطر کے حکام کے درمیان علاقائی کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ مذاکرات سے وابستہ ایک سفارت کار کے مطابق، عمان نے آبنائے ہرمز کے دونوں جہاز رانی کے راستوں کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے اور جنوبی راستے پر بلا روک ٹوک آمد و رفت بحال کرنے کی تجویز پیش کی۔
تاہم، سفارت کار کے مطابق ایرانی وفد اس تجویز پر فوری اتفاق نہیں کر سکا اور مزید بات چیت کے لیے تہران لوٹ گیا۔
دوسری طرف، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کہا کہ اس نے پہلے ہی کئی جہازوں کو اس کے ذریعے ’’غیر مجاز‘‘ قرار دیے گئے راستے کا استعمال نہ کرنے کا انتباہ دیا تھا۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ کارگو جہاز کی طرف سے انتباہ کو نظر انداز کیے جانے پر صرف ’’وارننگ کے طور پر گولی‘‘ چلائی گئی۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے یہ بھی اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو اگلی اطلاع تک اور علاقے میں امریکی مداخلت ختم ہونے تک بند رکھا جائے گا اور کسی بھی جہاز کو وہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سینٹ کام نے کہا کہ ایران کو پہلے بھی سمندری سیکورٹی سے متعلق معاہدوں پر عمل کرنے کا موقع دیا گیا تھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ امریکی فوج کے مطابق، موجودہ فوجی کارروائی کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے، جن کا استعمال وہ شہریوں اور کاروباری جہازوں پر حملوں کے لیے کرتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن