ہیما مالنی نے سنیما کے بدلتے وقت کے بارے میں کھل کر بات کی
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور ’ڈریم گرل‘ ہیما مالنی نے فلموں سے کنارہ کشی کی وجہ بتا ئی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی سنیما کا وہ دور جس میں انہوں نے کام کیا، وہ بہت خاص تھا۔ فی الحال، فلموں کے بننے کے انداز میں نمایاں تبدیلی آچکی ہے اور سنیما کے نئے
Hema-Malini-candidly-cinema-changing-times


بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور ’ڈریم گرل‘ ہیما مالنی نے فلموں سے کنارہ کشی کی وجہ بتا ئی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی سنیما کا وہ دور جس میں انہوں نے کام کیا، وہ بہت خاص تھا۔ فی الحال، فلموں کے بننے کے انداز میں نمایاں تبدیلی آچکی ہے اور سنیما کے نئے دور کے مطابق ڈھالنا ان کے لئے مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خود کو فلموں سے دور کر لیا ہے۔

ایک انٹرویو میں ہیما مالنی نے کہا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ انہیں ہندوستانی سنیما کے سنہری دور کا حصہ بننے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا،”وہ فلم انڈسٹری کا سنہرا دور تھا۔ اس وقت خواتین پر مرکوز بہت سی شاندار فلمیں بنی تھیں۔ مجھے 'سیتا اور گیتا'، 'سپنوں کا سوداگر'، اور 'خوشبو' جیسی یادگار فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا، جو آج بھی شائقین میں مقبول ہیں۔“

ہیما نے کہا کہ اپنے طویل کریئر میں انہوں نے تقریباً 200 فلموں میں اداکاری کی اور کئی پروڈیوسروں اور ہدایت کاروں کے ساتھ بار بار کام کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں فلموں میں عام طور پر پانچ یا چھ گانے ہوتے تھے اور موسیقی کو فلم کی کامیابی کا ایک اہم جزو سمجھا جاتا تھا۔ تاہم فلموں کے انداز، پیش کش اور پروڈکشن کے طریقے بالکل بدل چکے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ موجودہ سنیما میں خود کو ڈھالنا ان کے لیے مشکل ہے۔

ہیما مالنی اپنی کامیابی کا سہرا اپنی ماں کو دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ماں ہر قدم پر ان کی رہنمائی کی اور صحیح فیصلے کرنے میں ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔ رقص کی تربیت سے لے کر فلموں میںکریئر بنانے تک، ان کی والدہ کا تعاون اور اعتماد ان کی سب سے بڑی طاقت رہی ہے۔ اداکارہ نے کہا کہ ان کی زندگی اور کریئر کی تشکیل میں ان کی والدہ کا کردار اہم رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande