
نیو چنڈی گڑھ، 7 جون (ہ س)۔
ہندوستانی اسپنر مانو ستھار، جنہوں نے افغانستان کے خلاف واحد ٹسٹ کی پہلی اننگز کے دوسرے دن تین وکٹیں حاصل کیں، کہا کہ ان کی توجہ درست جگہوں پرگیند بازی کرنے اور مسلسل درست لینتھ پر گیند کرنے پرتھی۔
ہندوستانی ٹیم کے لیے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے 23 سالہ مانو ستھار نے اپنے پہلے ہی اوور میں ایک وکٹ حاصل کی۔ اس نوجوان نے اپنے پہلے اوور کی چوتھی گیند پر افغانستان کے اوپنر عبدالمالک (16) کو آو¿ٹ کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے رحمان اللہ گرباز (12) اور افسر زازئی (3) کی وکٹیں حاصل کیں۔ ستھار نے دوسرے دن اپنے 15.5 اوور کے اسپیل میں سات میڈن اوور پھینکے، 21 رنز کے عوض تین وکٹ لیے۔
دن کے کھیل کے اختتام کے بعد، مانو ستھار نے کہا، اسپیل کے دوران میری توجہ درست جگہوں پر گیند بازی اور اپنی طاقتوں کو استعمال کرنے پر تھی۔ وکٹ سپورٹ فراہم کر رہی تھی، اس لیے میری توجہ صحیح جگہوں پر گیند کرنے اور صحیح لینتھ پر مسلسل گیند کرنے پر تھی۔
نوجوان اسپنر نے کہا، میری توجہ گیند کو زیادہ سے زیادہ ٹرن کرنے پر مرکوز تھی کیونکہ پچ سپورٹ فراہم کر رہی تھی۔ میں بھی اچھی جگہوں پر ہی گیند کرنا چاہتا تھا اور مستقل طور پر صحیح لینتھ پر گیند کرنا چاہتا تھا کیونکہ یہیں سے سپورٹ مل رہی تھی۔ میری پوری توجہ اسی پر تھی۔
اپنے ڈیبیو کے بارے میں ستھار نے کہا، مجھے صبح ہی اس وقت پتہ چلا جب ہم گراو¿نڈ پر پہنچے۔ ہندوستان کے لیے کھیلنا ہر کسی کا خواب ہوتا ہے۔ میں اپنی کیپ حاصل کرکے بہت خوش ہوں۔ کپتان شبھمن گل کے بارے میں نوجوان کھلاڑی کا کہنا تھا کہ ہم (انڈین پریمیئر لیگ میں) ایک ساتھ کھیل چکے ہیں، اس لیے وہ میری طاقت اور میری باو¿لنگ کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، وہ میچ کے حالات کے بارے میں میری رہنمائی کرتے ہیں اور مجھے کس لائن اور لینتھ پر بولنگ کرنی چاہیے۔
میچ کی بات کریں تو دوسرے دن کا کھیل ختم ہو گیا ہے۔ ہندوستانی ٹیم نے دوسرے دن اپنی پہلی اننگز آٹھ وکٹ پر 564 رنز پر ڈکلیئر کردی۔ جواب میں افغانستان نے کھیل ختم ہونے تک اپنی پہلی اننگز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 113 رنز بنائے۔ رحمت شاہ 81 گیندوں پر 43 رنز بنا کر ناٹ آو¿ٹ رہے۔ پہلی اننگز کے مجموعی اسکور کی بنیاد پر افغانستان کی ٹیم اب بھی 451 رنز سے پیچھے ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ