
قلعوں اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے اقدامات، تاریخی تھانے، جیل اور توپوں کی اصل شکل برقرار رکھنے کی کوشش
ممبئی، 4 جون (ہ س)۔ سہیادری پرتشٹھان گزشتہ کئی برسوں سے قلعوں اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ تنظیم نہ صرف قلعوں کی اصل شناخت اور تقدس کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ قلعوں کی مرمت، برجوں کی بحالی، مرکزی دروازوں اور توپوں کی دیکھ بھال، صفائی ستھرائی اور عوامی بیداری پیدا کرنے کے لیے بھی مختلف اقدامات انجام دے رہی ہے۔ اس مہم میں ہزاروں ’’دُرگ سیوک‘‘ حصہ لے رہے ہیں اور تاریخی مقامات کی مسلسل نگرانی کے ذریعے انہیں دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چند برس قبل تھانے سینٹرل جیل میں موجود خستہ حال توپوں کو سہیادری پرتشٹھان کے صدر اور رکن اسمبلی سنجے کیلکر اور بانی شرمک گوجم گنڈے کی رہنمائی میں بحال کر کے نئی شکل دی گئی تھی۔ جب سہیادری پرتشٹھان اُلھاس نگر ڈویژن نے ان توپوں کے تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے اجازت طلب کی تو جیل سپرنٹنڈنٹ رانی بھوسلے نے فوری طور پر منظوری دے دی۔
اسی سلسلے میں تھانے سینٹرل جیل میں موجود توپوں کو بہتر حالت میں برقرار رکھنے کے لیے سہیادری پرتشٹھان اُلھاس نگر کے دُرگ سیوکوں نے صفائی مہم چلائی اور توپوں پر نیا رنگ کیا تاکہ بارش کے پانی سے انہیں نقصان نہ پہنچے۔ اس مہم کے دوران توپوں پر نیلا اور سلور آئل پینٹ جبکہ ان کے ڈھانچوں پر واٹر پروف سرمئی رنگ کیا گیا۔
سہیادری پرتشٹھان کے ضلع تھانے کے صدر مہیش وِنیرکر نے بتایا کہ ان تاریخی توپوں کی حفاظت کے لیے ہر سال اسی طرز پر رنگ و روغن کا کام انجام دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخی ورثے کی حفاظت ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے رضاکار مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس موقع پر سنگیتا جادھو، سنجے سادجی، بھاویش شاردُل اور سائی جادھو سمیت متعدد دُرگ سیوک موجود تھے، جن کی کوششوں سے تاریخی توپوں کو نئی زندگی ملی ہے۔ تقریب کے دوران تھانے سینٹرل جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بھور بھی موجود تھے۔
رکن اسمبلی سنجے کیلکر نے ویڈیو کال کے ذریعے رضاکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے ان کی کاوشوں کی تعریف کی اور اس مشن کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے