ترقی یافتہ ہندوستان صرف ایک صحت مند ہندوستان سے ہی ممکن ہے: نڈا
نئی دہلی، 30 جون (ہ س)۔صحت اور خاندانی بہبود کےمرکزی وزیر جگت پرکاش نڈا نے آج نئی دہلی میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف لیور اینڈ بلیئری سائنسز(آئی ایل بی ایس) کے دسویں کانووکیشن سے خطاب کیا۔فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے جناب جگت پرکاش نڈا نے کانووکیشن
ترقی یافتہ ہندوستان صرف ایک صحت مند ہندوستان سے ہی ممکن ہے: نڈا


نئی دہلی، 30 جون (ہ س)۔صحت اور خاندانی بہبود کےمرکزی وزیر جگت پرکاش نڈا نے آج نئی دہلی میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف لیور اینڈ بلیئری سائنسز(آئی ایل بی ایس) کے دسویں کانووکیشن سے خطاب کیا۔فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے جناب جگت پرکاش نڈا نے کانووکیشن کو ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ وہ خوش نصیب ہیں کہ انہیں انسٹی ٹیوٹ آف لیور اینڈ بلیئری سائنسز (آئی ایل بی ایس)جیسے عالمی شہرت یافتہ اور ممتاز ادارے سے ڈگری حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، جو مریضوں کی بہترین نگہداشت، طبی تعلیم، تحقیق اور اختراع کے میدان میں اپنی اعلیٰ خدمات کے باعث نمایاں مقام رکھتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ کی عوامی صحت کے شعبے میں خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے نڈا نے کہا کہ آئی ایل بی ایس ملک بھر کے گھروں میں فیٹی لیور کی بیماری کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے حوالے سے ایک کلیدی ادارے کے طور پر ابھرا ہے۔ اپنی پیش رفت پر مبنی طبی خدمات، تحقیقی سرگرمیوں اور عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے ادارے نے فیٹی لیور کی بیماری، اس کے خطرات کے عوامل، اس کی روک تھام اور اس کے طویل مدتی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں عوامی فہم و شعور میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

نڈا نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی کو معیاری صحت کی خدمات فراہم کرنے کے لیے نظامِ صحت کی بنیادی ساخت کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے ملک بھر میں 1.85 لاکھ سے زائد آیوشمان آروگیہ مندروں کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مراکز صحت کی خدمات حاصل کرنے والے شہریوں کے لیے رابطے کے پہلے مرکز بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مراکز نے احتیاط برتنے، فروغ پذیر، علاج معالجہ اور بحالیِ صحت کی خدمات پر یکساں توجہ دیتے ہوئے ملک میں جامع بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے تصور کو نئی جہت دی ہے۔احتیاطی صحت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے غیر متعدی امراض کی آبادی پر مبنی اسکریننگ میں آیوشمان آروگیہ مندروں کی نمایاں کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 42 کروڑ سے زائد افراد کی ہائی بلڈ پریشر کے لیے جانچ کی جا چکی ہے، جس کے نتیجے میں 7.3 کروڑ سے زیادہ مریضوں کی تشخیص ہوئی۔ اسی طرح 42 کروڑ سے زائد افراد کی ذیابیطس (شوگر) کی اسکریننگ کی گئی، جن میں تقریباً 5 کروڑ افراد اس مرض میں مبتلا پائے گئے۔ 35 کروڑ سے زیادہ افراد کی منہ کے سرطان (اورل کینسر) کی جانچ کی گئی، جس کے نتیجے میں 2.3 لاکھ سے زائد کیسز کی تشخیص ہوئی۔ چھاتی کے سرطان کی اسکریننگ 16 کروڑ سے زائد خواتین کی کی گئی، جس میں 86 ہزار سے زیادہ مریضوں کی نشاندہی ہوئی، جبکہ 9 کروڑ سے زیادہ خواتین کی سروائیکل کینسر کی جانچ کی گئی، جس کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ کیسز سامنے آئے۔ جناب نڈا نے کہا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ بروقت اسکریننگ اور جلد تشخیص احتیاطی صحت کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے اور علاج معالجہ کے بہتر نتائج حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ وکست بھارت کا تصور سوستھ بھارت کے بغیر حقیقی شکل اختیارنہیں کر سکتا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آنے والے برسوں میں احتیاطی صحت، ابتدائی اسکریننگ اور بروقت تشخیص بھارت کی صحت کی حکمتِ عملی کے بنیادی ستون رہیں گے۔یہ کنووکیشن فارغ التحصیل طلبہ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جہاں جگر کے امراض، ہیپاٹولوجی، ٹرانسپلانٹ میڈیسن اور متعلقہ سپر اسپیشلٹی و معاون شعبوں میں کامیاب امیدواروں کو ڈگریاں اور تعلیمی امتیازات سے نوازا گیا۔کنووکیشن کی تقریب میں ممتاز اساتذہ، صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین، محققین، طلبہ، سابق طلبہ اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande