جنرل اوپیندر دویدی نے الوداعی خطاب میں اپنی مدت کار کو زندگی کی سب سے بڑی خوش نصیبی قرار دیا
-وائس چیف آف آرمی اسٹاف جنرل دھیرج سیٹھ نے فوج کے نئے سربراہ کا عہدہ سنبھالا
-وائس چیف آرمی اسٹاف   جنرل دھیرج سیٹھ نے  فوج کے نئے سربراہ کا عہدہ سنبھالا


نئی دہلی، 30 جون (ہ س): بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی آج ریٹائر ہونے کے بعد لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ نے ملک کی فوج کے نئے سربراہ کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ جنرل اوپیندر دویدی نے اپنے الوداعی خطاب میں اپنی مدت کار کو ’’زندگی کی سب سے بڑی خوش نصیبی‘‘ قرار دیا۔ جنرل دویدی نے فوجیوں، سابق فوجیوں، ان کے اہلِ خانہ اور ملک کے شہریوں کا ان کے غیر متزلزل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے نیشنل وار میموریل پر گلہائے عقیدت نذر کئے اور نئی دہلی کے ساؤتھ بلاک لان میں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

چیف آف آرمی اسٹاف کی ذمہ داری جنرل دھیرج سیٹھ کو سونپنے کے بعد جنرل اوپیندر دویدی نے منگل کو بھارتی فوج میں چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک خدمات انجام دینے کو اپنی زندگی کی ’’سب سے بڑی خوش نصیبی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’آج میں یہ ذمہ داری جنرل دھیرج سیٹھ کے سپرد کر رہا ہوں۔ وہ ایک تجربہ کار فوجی اور باصلاحیت قائد ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ان کی قیادت میں بھارتی فوج اپنی شاندار روایات، پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کو برقرار رکھتے ہوئے مزید بلندیاں حاصل کرے گی۔ آج جب میں انہیں یہ ذمہ داری سونپ رہا ہوں تو مجھے بھارتی فوج کے مستقبل پر مکمل اعتماد ہے۔ بھارت کی فوج اپنی روایات پر قائم رہے گی، موجودہ چیلنجوں کے حوالے سے چوکس رہے گی اور مستقبل میں پیدا ہونے والی ہر صورتِ حال کے لیے مسلسل تیار رہے گی۔‘‘

الوداعی تقریب میں جنرل دویدی نے کہا، ’’بری فوج کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی مدتِ ملازمت مکمل کرتے ہوئے میں عاجزی، شکرگزاری، فخر اور اطمینان کے گہرے جذبات سے سرشار ہوں۔ سینک اسکول سے اس مقام تک کا سفر ناقابلِ فراموش رہا ہے۔ بھارتی فوج نے گزشتہ دو برسوں کے دوران ہر محاذ پر اعلیٰ درجے کی تیاری اور چوکسی برقرار رکھی، جس میں آپریشن اسنو لیپرڈ اور آپریشن سندور کی کامیابیاں شامل ہیں۔‘‘ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تینوں افواج کے درمیان مضبوط تال میل نے قومی سلامتی کے شعبے میں ملک کے ’’نیو نارمل‘‘ کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ’’آپریشن اسنو لیپرڈ‘‘ کے تحت شمالی سرحدوں پر ہماری تعیناتی طاقت اور چوکسی کی علامت رہی ہے، جبکہ مغربی محاذ پر بھی فوج نے پوری سنجیدگی اور تحمل کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔

جنرل دویدی نے کہا، ’’مستقبل کی جنگیں زیادہ سے زیادہ مشترکہ، مربوط اور تھیٹر پر مبنی ہوں گی۔ اسی لیے ہماری سمت بالکل واضح ہے—ایک ساتھ دیکھنا، ایک ساتھ فیصلہ کرنا اور ایک ساتھ عمل کرنا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کو اپنی طاقت کسی ایک فرد سے نہیں بلکہ اپنے فوجیوں، کمانڈروں، سابق فوجیوں، ان کے اہلِ خانہ اور ملک کے شہریوں کے غیر متزلزل اعتماد سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے بھارتی فوج کے ہر سپاہی کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جن میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے دورانِ ڈیوٹی اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande