آپ نے مالویہ نگر ہوٹل میں آتشزدگی پر حکومت کو نشانہ بنایا، معاوضہ کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، 3 جون (ہ س)۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سینئر لیڈر اور دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر آتشی نے بدھ کو مالویہ نگر ہوٹل میں آگ لگنے پر حکومت کو نشانہ بنایا۔ اے اے پی نے منصفانہ تحقیقات، قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرین کو مناسب معا
آگ


نئی دہلی، 3 جون (ہ س)۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سینئر لیڈر اور دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر آتشی نے بدھ کو مالویہ نگر ہوٹل میں آگ لگنے پر حکومت کو نشانہ بنایا۔ اے اے پی نے منصفانہ تحقیقات، قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرین کو مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔

آتشی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مالویہ نگر آتشزدگی معاملہ میں 20 لوگوں کی موت کی خبر بہت افسوسناک ہے۔ سوگوار خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے انہوں نے دعا کی کہ خدا انہیں غم کی اس گھڑی میں ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔

انہوں نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ دہلی میں بار بار لگنے والی آگ اور بے گناہ لوگوں کی موت کی ذمہ داری کون لے گا؟ فائر سیفٹی سسٹم اتنا ناقص کیوں ہو گیا ہے؟

آتشی نے کہا کہ ہر حادثے کے بعد صرف بیانات جاری ہوتے ہیں لیکن احتساب کہیں نظر نہیں آتا۔ انسانی جانوں کی قیمت پر یہ غفلت اب قابل قبول نہیں۔

حکومت سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے آپ کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ فروری میں پالم میں آگ لگ گئی تھی، جس میں نو لوگ جھلس کر ہلاک ہو گئے تھے۔ حکومت نے تحقیقات کا حکم دیا لیکن تین ماہ گزرنے کے باوجود رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب وویک وہار میں آگ لگی تو فائر بریگیڈ کے پاس پانی نہیں تھا اور آج وہاں 20 سے 21 لوگ جل کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

سوربھ بھاردواج نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ مجبوری کی وجہ سے باہر سے یہاں آئے ہیں، چھوٹے گھروں اور ہوٹلوں میں رہ کر اپنے اہل خانہ کا علاج کروا رہے ہیں، لیکن حکومت مدد کی بجائے ان پر الزام لگا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس پورے معاملے میں خود کو جوابدہ بنائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

اے اے پی کے ترجمان اور براڑی کے ایم ایل اے سنجیو جھا نے مالویہ نگر ہوٹل میں آگ لگنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ایسا واقعہ ہوتا ہے، دہلی حکومت فائر آڈٹ کرنے، حفاظتی معیارات کا جائزہ لینے اور کمیوں کو دور کرنے کا دعوی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی آڈٹ اور کارروائی ہو رہی ہے تو ایسے واقعات بار بار کیوں ہو رہے ہیں؟

سنجیو جھا نے کہا کہ فائر ڈپارٹمنٹ کے کام کاج اور نگرانی کا نظام سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے کئی سوالات کیے: کیا حفاظتی ضابطے صرف کاغذوں تک محدود ہیں؟ کیا ذمہ داروں کا احتساب ہو رہا ہے؟ حکومت ہر حادثے کے بعد ایک ہی بیان جاری کرنے کی بجائے مستقل حل کو یقینی بنانے سے کیوں قاصر ہے؟

میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) میں اپوزیشن لیڈر انکش نارنگ نے کہا کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں ہے بلکہ حکومت کی لاپرواہی اور بدعنوانی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر فائر سیفٹی کے ضوابط پر عمل کیا جا رہا تھا تو اتنا بڑا سانحہ کیسے پیش آیا؟

انکش نارنگ نے اس واقعے پر حکومت سے جواب طلب کیا، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ کیا فائر این او سی موجود ہے، کیا تہہ خانے کو ضابطوں کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہے اور آخری فائر سیفٹی آڈٹ کب ہوا تھا۔ انہوں نے حکومت سے کارروائی اور متاثرین کو مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande