
جے پور، 29 جون (ہ س): جے پور-دہلی قومی شاہراہ پر چندواجی تھانہ علاقے میں تالہ موڑ میں زیر تعمیر اراولی پیلس ریزورٹ میں پیر کی سہ پہر ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ حادثے میں دو خواتین سمیت تین مزدور جاں بحق جب کہ بارہ سے زائد زخمی ہوگئے۔ ان میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
جے پور کے دیہی پولیس سپرنٹنڈنٹ ہنومان پرساد مینا نے بتایا کہ پیر کی دوپہر تقریباً 12بج کر50 منٹ پر، ضلع کے چندواجی تھانہ علاقے میں واقع ریزورٹ کمپلیکس میں سیوریج کے گڑھے میں 24 سے زیادہ مزدور کام کر رہے تھے۔ مٹی بھرنے کے دوران اچانک کمپن اور مٹی گرنے سے دیوار گر گئی۔ سیمنٹ کے بلاکس اور بھاری ملبہ پل میں مزدوروں پر گرا جس سے جائے وقوعہ پر چیخ و پکار مچ گئی۔ مقامی لوگوں کی مدد سے فوری طور پر راحت اور بچاو¿ آپریشن شروع کیا گیا۔ جے سی بی اور دیگر وسائل کی مدد سے ملبہ ہٹا کر دبے مزدوروں کو باہر نکالا گیا۔
اس حادثے میں مندیپ کی بیوی رنکو (32)، منوج کمار کی بیوی سویتا اور بہار کے رہنے والے رام پرویش کے بیٹے رام جی مانجھی (28) کی موت ہوگئی۔ زخمیوں کو نمز اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں تین مزدور زیر علاج ہیں، جب کہ دیگر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔ واقعہ کے بعد تعمیراتی ٹھیکیدار موقع سے فرار ہو گیا۔ پولیس اسے تلاش کر رہی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں تعمیراتی مقام پر حفاظتی معیارات کی پابندی کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا تعمیراتی کام کے دوران مقررہ حفاظتی اقدامات پر عمل کیا گیا۔ جائے وقوعہ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی بھی جانچ کی جائے گی۔
ضلع کلکٹر سندیش نائک نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی راحت اور بچاو¿ آپریشن شروع کیا گیا۔ چندواجی پولیس اسٹیشن، انتظامیہ، شہری دفاع اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ ابتدائی طور پر، شبہ ہے کہ نئی تعمیر شدہ دیوار مٹی کے نیچے آنے اور کمپن کی وجہ سے گر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کا شکار ہونے والے زیادہ تر مزدوروں کا تعلق بہار سے ہے اور اس کی مکمل تحقیقات کی جائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وہیں، راجستھان حکومت کے پارلیمانی امور کے وزیر جوگارام پٹیل اور ایم ایل اے گوپال شرما نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور حکام کے ساتھ راحت اور بچاو¿ کاموں کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد انہوں نے زخمیوں کی خیریت دریافت کرنے اور ڈاکٹروں سے ان کے علاج کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے نمس اسپتال کا دورہ کیا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ بھجن لال شرما کی ہدایت پر پورے واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائے گی اور اگر کسی بھی سطح پر لاپرواہی پائی گئی تو قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس دوران آمیر ایم ایل اے پرشانت شرما، جموارام گڑھ کے ایم ایل اے مہیندر مینا، ڈسٹرکٹ کلکٹر سندیش نائک اور پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی موقع پر موجود تھے۔
بہار کے گیا ضلع کی رہائشی اور حادثے کی عینی شاہد ممتا نے بتایا کہ اس کا بھائی رام جی سیمنٹ کے بلاکس لے جا رہا تھا جب دیوار گر گئی، وہ ملبے کے نیچے دب گیا۔ خوش قسمتی سے وہ اپنی جان بچا کر پانی پینے کے لیے گڑھے سے باہر آئی تھی۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ انتظامیہ حفاظتی معیارات میں غفلت، تکنیکی خامیوں اور تعمیراتی ایجنسی کے کردار کی تفصیلی تحقیقات کر رہی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی