
نئی دہلی، 29جون (ہ س) ۔ سوتی دھاگہ تیار کرنے والی کمپنی آستھا اسپنٹیکس کا 170 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کیا گیا۔ آئی پی او 1 جولائی تک بولی لگانے کے لیے کھلا ہے۔ حصص ایشو کے بند ہونے کے بعد 2 جولائی کو الاٹ کیے جائیں گے، جبکہ 3جولائی کو الاٹ کیے گئے حصص ڈیمیٹ اکاو¿نٹ میں جمع کیے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص بی ایس ای اور این ایس ای پر 6جولائی کو درج ہونے کا امکان ہے۔ آئی پی او کو پہلے دن 95 فیصد سبسکرائب کیا گیا۔
آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے پرائس بینڈ 125 روپے سے 136 روپے فی حصص مقرر کیا گیا ہے، جبکہ لاٹ سائز 110 حصص ہے۔ اس آئی پی او میں خوردہ سرمایہ کار کم از کم ایک لاٹ یعنی 110 حصص کے لیے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں 14,960 روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اسی طرح خوردہ سرمایہ کار 1,94,480 روپے کی سرمایہ کاری پر زیادہ سے زیادہ 13 لاٹوں میں 1,430 حصص کے لیے بولی لگا سکتے ہیں۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے ساتھ کل 1.25 کروڑ نئے حصص فروخت کیے جا رہے ہیں۔
آئی پی او میں 20 فیصد حصص اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایشو کا 40 فیصد خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے اور 40 فیصد غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص ہے۔ بی او آئی مرچنٹ بینکرز لمیٹڈ کو اس ایشو کا بک رننگ لیڈ منیجر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بگ شیئر سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کو رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔
آستھا اسپنٹیکس کی مالی صحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جیسا کہ کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کیے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں دعوی کیا گیا ہے، اس کی مالی صحت کو مسلسل مضبوط ہوئیہے۔ مالی سال 2022تا2023 میں کمپنی کا خالص منافع 1.06 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 23-24 میں بڑھ کر 16.29 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 22.92 کروڑ روپے ہو گیا۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026 کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، کمپنی کا خالص منافع 17.56 کروڑ روپے تھا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022تا2023 میں، اس نے 239.69 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 23-24 میں بڑھ کر 305.67 کروڑ روپے ہو گئی اور مالی سال 24-25 میں بڑھ کر 352.17 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026 کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، کمپنی کو 314.02 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کے ذخائر اور سرپلس میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 22-23 کے اختتام پر کمپنی کے ذخائر اور سرپلس 32.70 کروڑ روپے تھے، جو مالی سال 23-24 میں بڑھ کر 49.07 کروڑ روپے ہو گئے اور مالی سال 24-25 میں بڑھ کر 91.12 کروڑ روپے ہو گئے۔ اگر ہم پچھلے مالی سال 2025تا2026 کے پہلے نو مہینوں کی بات کریں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، تو کمپنی کا ریزرو اور سرپلس 121.47 روپے تک پہنچ گیاتھا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022تا2023 میں یہ 60.1 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو کہ 2023تا2024 میں بڑھ کر 76.38 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح، 2024تا2025 میں کمپنی کی مجموعی مالیت 121.5 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026 کے پہلے نو مہینوں میں یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک 153.18 کروڑ روپے تک پہنچ گیا تھا۔
اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ، ٹیکسز،ڈپریشئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن) 2022تا2023 میں 11.6 کروڑ روپے رہی، جو 2023تا2024 میں بڑھ کر 34.25 کروڑ روپے اور2024تا2025 میں 46.36 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026 یعنی اپریل سے 31دسمبر 2025 کے پہلے نو مہینوں میں، یہ35.25 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی