
نئی دہلی، 29 جون (ہ س): مرکزی کابینہ نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو تیز کرنے کے لئے قومی سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر فنڈ (ین آئی آئی ایف) میں 30,000 کروڑ روپے کی اضافی سرمایہ کاری کو منظوری دی ہے۔ ین آئی آئی ایف میں مرکزی حکومت کی کل سرمایہ کاری کا عزم دگنی ہو کر 60,000 کروڑ ہو گیا ہے۔
پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں، وزارت خزانہ نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے اور قومی اہمیت کے دیگر شعبوں میں ہندوستان کی سرمایہ کاری کے عزم کو مزید مضبوط کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم میں، وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت مرکزی کابینہ نے گزشتہ ہفتے ین آئی آئی ایف کے نئے اور آنے والے فنڈز میں حکومت ہند سے 30,000 کروڑ روپے کی اضافی سرمایہ کاری کو منظوری دی۔ اس کے ساتھ ہی ین آئی آئی ایف میں حکومت ہند کی کل سرمایہ کاری کا عہد بڑھ کر 60,000 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔
وزارت کے مطابق، قومی سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر فنڈ (ین آئی آئی ایف) ہندوستان کا خودمختار اینکر فنڈ ہے، جو پیشہ ورانہ طور پر نیشنل انویسٹمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر فنڈ لمیٹڈ (ین آئی آئی ایف ایل) کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے۔ حکومت ہند کے پاس ین آئی آئی ایف میں 49فیصد حصص ہے اور یہ فی الحال اپنے فنڈ اور سرمایہ کاری کی حکمت عملی کے تحت تقریباً 40,000 کروڑ کے سرمائے کے وعدوں کا انتظام کرتی ہے۔ ین آئی آئی ایف نے سرمائے کی تعیناتی اور ریٹرن کے بہترین ٹریک ریکارڈ کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس نے بڑے پورٹ فولیو ایگزٹ کے ذریعے تقریباً 12,000 کروڑ سرمایہ کاروں کو واپس کیے ہیں۔
قومی سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر فنڈ نے بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں بشمول ساورین فنڈز، پنشن فنڈز، کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں اور ملک کے معروف مالیاتی ادارےسے سے سرمایہ اکٹھا کیا ہے۔ ان میں ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی، آسٹریلین سپر، سی پی پی انویسٹمنٹ اونٹاریو ٹیچرز پنشن پلان، پی ایس پی انویسٹمنٹس، ٹیماسیک، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، نیو ڈیولپمنٹ بینک، ایشین ڈیولپمنٹ بینک، جاپان بینک برائے بین الاقوامی تعاون، یو ایس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فائنانس کارپوریشن، ایکسس بینک، ایچ ڈی ایف سی گروپ، آئی سی آئی سی آئی بینک، اسٹیٹ بینک، کوٹک انڈیا، اسٹیٹ بینک اور انسٹی ٹیوٹ بینک شامل ہیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی