کھنڈوا میں غیر قانونی قبضہ روکنے پہنچی محکمۂ جنگلات کی ٹیم پر حملہ، 8 جوان شدید زخمی
کھنڈوا، 28 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے کھنڈوا ضلع کی گڑی رینج کے آما کھجری جنگل میں اتوار کی دوپہر جنگلاتی اراضی پر غیر قانونی فصل بونے سے روکنے پہنچی ٹیم پر تقریباً 400 قبضہ کاروں نے خواتین کی آڑ لے کر لاٹھیوں اور گوپھن (پتھر پھینکنے کا روایتی ہت
کھنڈوا میں غیر قانونی قبضہ روکنے پہنچی محکمۂ جنگلات کی ٹیم پر حملہ


کھنڈوا، 28 جون (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے کھنڈوا ضلع کی گڑی رینج کے آما کھجری جنگل میں اتوار کی دوپہر جنگلاتی اراضی پر غیر قانونی فصل بونے سے روکنے پہنچی ٹیم پر تقریباً 400 قبضہ کاروں نے خواتین کی آڑ لے کر لاٹھیوں اور گوپھن (پتھر پھینکنے کا روایتی ہتھیار) سے پتھروں سے حملہ کر دیا، جس میں فلائنگ اسکواڈ کے 8 فارسٹ گارڈ زخمی ہو گئے۔ معلومات کے مطابق، یہ پرتشدد ٹکر اس وقت ہوئی جب بارش کا فائدہ اٹھا کر جنگلاتی اراضی پرغیر قانونی طورپرفصل بونے کی نیت سے آئے قبضہ کاروں کو بھگانے کے لیے محکمۂ جنگلات کے 40 ملازمین کی ٹیم موقع پر پہنچی تھی۔ زخمی فارسٹ گارڈز نے بتایا کہ کارروائی کو روکنے کے لیے سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت بھیڑ نے پہلے خواتین کو آگے کر دیا، جس سے محکمۂ جنگلات کی ٹیم فوراً کوئی سخت قدم نہیں اٹھا سکی۔ اسی کا فائدہ اٹھا کر پیچھے چھپے شرپسندوں نے لاٹھیوں اور گوپھن سے بڑے بڑے پتھر برسانے شروع کر دیے۔ اچانک ہوئے اس منظم حملے میں جوانوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا اور کئی ملازمین کے سر پھٹ گئے، جبکہ ایک جوان کا کان تک کٹ گیا۔

اس واقعے میں شدید طور پر زخمی ہوئے تمام ملازمین جنگلات کی حفاظت کے لیے سال 2025 میں بھرتی کیے گئے خصوصی فلائنگ اسکواڈ کا حصہ ہیں۔ زخمیوں کی شناخت فارسٹ گارڈ جوالا سنگھ، رومانک نایک، شیلیندر یادو، راجیندر سنگھ سکتاوت، راجیندر باگڑی، پردیپ بگھیل، چندرپال تومر اور راہل لودھی کے طور پر ہوئی ہے، جنہیں فوراً ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اسپتال میں زیرِ علاج زخمی جوانوں نے محکمے اور مقامی انتظامیہ پر سنگین الزامات بھی لگائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد انہیں تقریباً دو گھنٹے تک کوئی مدد نہیں ملی اور نہ ہی پولیس اور ایمبولینس وقت پر موقع پر پہنچ سکی۔

گڑی رینج کے رینجر نریندر پٹیل نے بتایا کہ محکمۂ جنگلات نے حملے میں ملوث شرپسندوں اور قبضہ کاروں کی شناخت کا کام شروع کر دیا ہے۔ جلد ہی تمام نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرا کر سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری طرف، اس قاتلانہ حملے سے خوفزدہ اور برہم جنگلاتی ملازمین نے جنگلات میں انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران اپنی جان کی حفاظت کے لیے حکومت اور انتظامیہ سے مستقل پولیس سیکورٹی فورس تعینات کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande