
علی گڑھ, 28 جون (ہ س) علی گڑھ میں مانسون کی آمد سے قبل شہر اور دیہی علاقوں میں بجلی کے خستہ کھمبے، جھولتی تاریں اور ٹرانسفارمروں کے اطراف حفاظتی انتظامات کا فقدان شہریوں کی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ کئی مقامات پر بجلی کی تاروں میں درختوں کی شاخیں الجھی ہوئی ہیں، جبکہ متعدد کھمبے گرنے کی حالت میں ہیں، جس سے بارش اور آندھی کے دوران بڑے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
نیو اشوک نگر چوراہے پر ایک بجلی کا کھمبا انتہائی خستہ حالت میں ہے، جبکہ اوپر کوٹ میں ٹرانسفارمر کے گرد حفاظتی باڑ نہ ہونے کے باعث عارضی طور پر بانس باندھ کر کام چلایا جا رہا ہے۔ دہلی گیٹ چوراہے پر بجلی کی تاروں کا جال پھیلا ہوا ہے، جبکہ ضلع جیل روڈ اور اے ایم یو پویلین کے قریب ہائی ٹینشن لائنوں سے درختوں کی شاخیں ٹکرانے کے باعث خطرہ برقرار ہے۔
دیہی علاقوں میں صورتحال مزید سنگین بتائی جا رہی ہے، جہاں کئی مقامات پر تاریں ٹوٹ کر گرنے سے فصلوں کو نقصان پہنچتا ہے اور بارش کے دوران خستہ کھمبوں میں کرنٹ اترنے کا بھی اندیشہ رہتا ہے۔
محکمہ بجلی کے مطابق ضلع میں 2,600 بجلی کے کھمبے تبدیل کرنے، تقریباً 200 کلومیٹر ہائی اور لو ٹینشن لائنیں بدلنے، 701 ٹرانسفارمروں کی گنجائش بڑھانے اور 76 نئے ٹرانسفارمر نصب کرنے کی ضرورت ہے۔
محکمہ کی جانب سے آر ڈی ایس ایس اور دیگر اسکیموں کے تحت کئی ترقیاتی کام مکمل کیے جا چکے ہیں، جن میں ہزاروں کلومیٹر کیبل کی تبدیلی، نئے سب اسٹیشنوں کی تعمیر اور سینکڑوں ٹرانسفارمروں کی تنصیب شامل ہے، تاہم متعدد علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری اب بھی ضروری ہے۔
چیف انجینئر اروند نائک نے بتایا کہ شہر اور دیہی علاقوں میں مرحلہ وار خستہ کھمبوں، تاروں اور ٹرانسفارمروں کی تبدیلی کا کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مرحلے میں 2,600 کھمبے تبدیل کیے جائیں گے، 701 ٹرانسفارمروں کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا اور 76 نئے ٹرانسفارمر نصب کیے جائیں گے تاکہ مانسون کے دوران بجلی کی فراہمی محفوظ اور بلا تعطل برقرار رکھی جا سکے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ