مغربی بنگال میں یو سی سی کے نفاذ کیلئے تیاریاں ، خاندانی قوانین میں بڑی تبدیلیوں کا امکان
کولکاتہ، 28 جون (ہ س):۔ مغربی بنگال میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کو لے کر سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے۔ ریاست میں اس سمت میں بل پیش کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ اگر یہ تجویز آگے بڑھی تو یہ خاندانی معاملات میں بڑی تبدیلیوں کا ب
مغربی بنگال میں یو سی سی کے نفاذ کیلئے تیاریاں ، خاندانی قوانین میں بڑی تبدیلیوں کا امکان


کولکاتہ، 28 جون (ہ س):۔

مغربی بنگال میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کو لے کر سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے۔ ریاست میں اس سمت میں بل پیش کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ اگر یہ تجویز آگے بڑھی تو یہ خاندانی معاملات میں بڑی تبدیلیوں کا باعث بن سکتی ہے جیسے شادی، طلاق، جائیداد کی وراثت، اور گود لینا۔

رپورٹس کے مطابق اس تجویز کا مقصد مختلف مذاہب اور کمیونٹیز کے لیے الگ الگ پرسنل لاز کی جگہ ایک یکساں قانونی نظام لانا ہے۔ اس تجویز میں تمام شہریوں کے لیے خاندانی معاملات کے لیے یکساں قوانین کے اطلاق کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

آئین کی ریاستی پالیسی کے ہدایتی اصول ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک بھر میں یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کی کوشش کرے۔ یہ مسئلہ آزادی کے بعد سے مسلسل زیر بحث رہا ہے۔ عدالتیں بھی اس موضوع پر وقتاً فوقتاً اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہی ہیں تاہم واضح رہنما اصولوں کے فقدان کی وجہ سے ابھی تک اس پر عمل نہیں ہو سکا ہے۔

غور طلب ہے کہ اس سمت میں ایک قانون پہلے ہی اتراکھنڈ میں لاگو ہو چکا ہے، جب کہ گجرات اور آسام میں بھی اسی طرح کے قانون نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ان ریاستوں نے شادی کی رجسٹریشن، تعدد ازدواج کی ممانعت، اور جائیداد کے حقوق جیسے معاملات پر اسی طرح کے قوانین نافذ کیے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande