یکم جولائی سے دیہی علاقوں میں 125 دن روزگار کی قانونی ضمانت کا نیا قانون نافذ ہوگا
امراوتی، 27 جون (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے دیہی ہندوستان کی ہمہ جہت اور پائیدار ترقی کے مقصد سے وکست بھارت گارنٹی فار روزگار اینڈ آجی وِکا مشن دیہی ایکٹ 2025 کو یکم جولائی سے ملک بھر کے دیہی علاقوں میں نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وکست بھار
Maha Rural Employment


امراوتی، 27 جون (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے دیہی ہندوستان کی ہمہ جہت اور پائیدار ترقی کے مقصد سے وکست بھارت گارنٹی فار روزگار اینڈ آجی وِکا مشن دیہی ایکٹ 2025 کو یکم جولائی سے ملک بھر کے دیہی علاقوں میں نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وکست بھارت 2047 کے قومی وژن کو عملی شکل دینے والے اس قانون کو دیہی ترقی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔نئے قانون کے تحت دیہی علاقوں کے ہر اہل خاندان کے بالغ رکن کو ایک مالی سال میں 125 دن غیر ہنر مند مزدوری پر مبنی روزگار کی قانونی ضمانت فراہم کی جائے گی۔ اس فیصلے سے دیہی خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ، ذریعہ معاش کو استحکام اور دیہی سطح پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مدد ملنے کی توقع ہے۔اس قانون کے تحت صرف روزگار فراہم کرنے پر ہی زور نہیں دیا گیا بلکہ آبی ذخائر کے تحفظ، آبی سلامتی، شجرکاری، زرعی ترقی، دیہی بنیادی ڈھانچے، زراعت اور اس سے وابستہ روزگار کے ذرائع کے فروغ کے ساتھ ساتھ مقامی اقتصادی ترقی سے متعلق مختلف کاموں کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پائیدار اور پیداواری اثاثے تیار کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔قانون میں ٹیکنالوجی پر مبنی انتظامیہ، مختلف سرکاری اسکیموں کے باہمی اشتراک، گاؤں کی سطح پر منصوبہ بندی، شفافیت، سماجی جوابدہی اور مؤثر عمل درآمد کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ روزگار کی مدت بڑھائے جانے کے فیصلے سے دیہی علاقوں میں اطمینان کی فضا پیدا ہوئی ہے۔قانون پر مؤثر عمل درآمد کے لیے امراوتی ضلع میں گرام پنچایت، تعلقہ اور ضلع سطح پر مختلف عوامی رابطہ اور بیداری پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں گرام سبھا، وکست بھارت گرام سنواد، مزدور اعزاز پروگرام، بیداری ریلیاں، حلف برداری کی تقریبات، معلوماتی مہمات اور مختلف موضوعات پر مذاکروں کا انعقاد کیا جائے گا۔ ضلعی کلکٹر اور ضلع پروگرام رابطہ کار کی رہنمائی میں یہ مہم چلائی جائے گی، جبکہ ضلع کی تمام گرام پنچایتوں، پنچایت سمیتیوں اور متعلقہ محکموں کے باہمی تعاون سے پروگراموں کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ نے عوامی نمائندوں، خواتین سیلف ہیلپ گروپس، یوتھ تنظیموں، غیر سرکاری اداروں اور عام شہریوں سے اس مہم میں فعال شرکت کی اپیل کی ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande