بھوپال میں بند مکان سے ریٹائرڈ جوڑے کی لاشیں ملیں، گھر سے بدبو آنے پر کرایہ دار طلبہ نے پولیس کو اطلاع دی
۔ اکلوتا بیٹا بیرونِ ملک رہتا ہے، گھر میں اکیلا رہتا تھا بزرگ جوڑا
عیش باغ تھانہ فائل فوٹو


بھوپال، 27 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے عیش باغ تھانہ علاقے میں واقع سداما نگر کے ایک بند مکان سے ریلوے اور محکمۂ صحت سے سبکدوش (ریٹائرڈ) بزرگ جوڑے کی لاشیں مشتبہ حالات میں ملی ہیں۔ پولیس نے دونوں لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور معاملے کی گہرائی سے تفتیش شروع کر دی ہے۔

معلومات کے مطابق، سداما نگر کے اس مکان میں 64 سالہ ہیمنت باریک اور ان کی 62 سالہ بیوی شکنتلا باریک اکیلے رہتے تھے۔ ہیمنت باریک ریلوے کے ریٹائرڈ ملازم تھے، جبکہ ان کی بیوی شکنتلا کستوربا اسپتال میں نرس کے عہدے سے سبکدوش ہوئی تھیں۔ مکان کے ایک حصے میں کچھ طلبہ کرایے پر رہتے ہیں۔ طلبہ نے پولیس کو بتایا کہ گزشتہ دو دنوں سے انہوں نے جوڑے کو گھر سے باہر آتے جاتے نہیں دیکھا تھا۔ جمعہ کی دیر رات کو جب گھر کے اندر سے اچانک تیز اور ناقابلِ برداشت بدبو آنے لگی، تو انہیں کسی انہونی کا شبہ ہوا اور انہوں نے فوراً عیش باغ تھانے کی پولیس کو معاملے کی اطلاع دی۔

اطلاع ملتے ہی عیش باغ تھانہ پولیس کی ٹیم فوراً موقع پر پہنچ گئی۔ گھر کا مین دروازہ اندر سے پوری طرح لاک تھا، جسے پولیس نے طاقت کے استعمال سے توڑا۔ اندر جانے پر جوڑے کی لاشیں مسخ شدہ حالت میں ملیں، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ موت دو دن پہلے ہی ہو چکی تھی۔ جانچ میں سامنے آیا ہے کہ جوڑے کا اکلوتا بیٹا اپنے اہل خانہ کے ساتھ بیرونِ ملک رہتا ہے، جسے پولیس نے اس واقعے کی اطلاع دے دی ہے۔ اس کے ہندوستان لوٹنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

جائے وقوع کا معائنہ کرنے کے بعد پولیس افسران کا کہنا ہے کہ گھر کے اندر کسی بھی طرح کے زبردستی داخلے یا کسی بیرونی شخص کے ساتھ جدوجہد کے کوئی بھی واضح شواہد یا نشانات نہیں ملے ہیں۔ ابتدائی شواہد کو دیکھتے ہوئے بظاہر یہ معاملہ خودکشی کا لگ رہا ہے۔ تاہم، موت کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ صحیح انکشاف پوسٹ مارٹم اور فارنسک سائنس لیبارٹری کی تفصیلی جانچ رپورٹ آنے کے بعد ہی ہو سکے گا۔ پولیس معاملے میں مرگ قائم کر کے تمام ممکنہ پہلووں اور زاویوں سے باریک بینی سے جانچ کر رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande