
سیول، 26 جون (ہ س)۔ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کو نشانہ بنانے کے قابل جدید ہتھیاروں کے ٹیسٹ کی نگرانی کی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، تجربات میں نئے متعدد راکٹ لانچرز، ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے توپ خانے کے گولے شامل تھے۔
شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی یونہاپ نے جنوبی کوریا کے سرکاری میڈیا کے سی این اے کے حوالے سے بتایا کہ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان نے ذاتی طور پر جنوبی کوریا کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والےنئے اور جدید ہتھیاروں کے تجربے کی نگرانی کی ۔ اس ٹیسٹ کا مقصد ملک کے پانچ سالہ دفاعی ترقیاتی منصوبے کے حصے کے طور پر توپ خانے اور میزائل سسٹم کو جدید بنانا تھا۔
جمعرات کو کیے گئے ٹیسٹوں میں 240 ملی میٹر 24 ٹیوب ملٹیپل راکٹ لانچر سسٹم کے جدید ورژن، ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں کے لیے خصوصی مشن وار ہیڈز اور 155 ملی میٹر خود سے چلنے والے ہووٹزر کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے گولوں کی صلاحیت کا تجربہ کیا گیا۔
کے سی این اے کے مطابق، نئے 24 ٹیوب والے راکٹ لانچر میں آٹونومس پریسیجن گائیڈینس سسٹم لگایاگیاہے اور اس کی مار کرنے کی رینج بڑھاکر90 کلومیٹر کردی گئی ہے۔ وہیں155 ایم ایم ہووٹزر کے لیے 65 کلومیٹر تک مار کرنے والے ایک نئے پروجیکٹائل کا بھی کامیاب تجربہ کیا گیا۔
شمالی کوریا نے دعویٰ کیا کہ ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں کے خصوصی وار ہیڈز دشمن کے ایئر بیس، بندرگاہوں اوربجلی جیسے اہم انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
ٹیسٹ کے بعد، کم جونگ ان نے کہا کہ نتائج جنوبی سرحد پر فائر پاور کی صورتحال میں تبدیلی کے درمیان ملک کے اہم ہتھیاروں کی تکنیکی ترقی کو ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں کو مسلسل پریشانی اور خوف کی حالت میں رکھنا جنگ کو روکنے کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے اور جلد ہی تمام طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کو جدید ورژن میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
یہ تجربہ، جو جمعرات کو 1950تا53 19کی کوریائی جنگ کے آغاز کی 76 ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا، خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا مقصد جنوبی کوریا میں اہم فوجی اور اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنانے کی شمالی کوریا کی صلاحیت کو ظاہر کرنا تھا۔
شمالی کوریا نے 2023 کے آخر میں جنوبی کوریا کو اپنا بنیادی دشمن قرار دیا تھا۔ تب سے، پیانگ یانگ اپنے ٹیکٹیکل میزائلوں، توپ خانے کے نظام اور دیگر روایتی ہتھیاروں کو مسلسل جدید بنا رہا ہے اور انہیں جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب تعینات کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی