نئی نسل کو ایمرجنسی کے بارے میں جاننا چاہیے : سود
نئی دہلی، 25 جون (ہ س)۔ دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود نے جمعرات کو نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کی 9 ویں جماعت کی نصابی کتاب میں ایمرجنسی کا ایک باب شامل کئے جانے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اظہار رائے
NCERT-EMERGENCY-TEXTBOOK-SOOD-UNDECLARED-EMERGENCY


نئی دہلی، 25 جون (ہ س)۔ دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود نے جمعرات کو نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کی 9 ویں جماعت کی نصابی کتاب میں ایمرجنسی کا ایک باب شامل کئے جانے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اظہار رائے کی آزادی کیا ہے؟ غیر اعلانیہ ایمرجنسی اور اعلان کردہ ایمرجنسی میں کیا فرق ہے؟ نئی نسل کو یہ سب معلوم ہونا چاہیے۔‘‘

آج دہلی سکریٹریٹ میں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر سود نے کہا کہ این سی ای آر ٹی نے نئی نسل کو اس بارے میں آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح ایمرجنسی کے دوران لوگوں کی اظہار رائے کی آزادی کو روکا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو اس بارے میں آگاہی ہونی چاہیے تاکہ کوئی دوبارہ ایسی کوشش نہ کر سکے۔

وزیر سود نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ 25 جون 1975 ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ اقتدار کے تحفظ کے لیے لگائی گئی ایمرجنسی نے اہل وطن کے بنیادی حقوق، آزادی اظہار اور جمہوری اقدار کو شدید دھچکا پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ’سمویدھان ہتیا کے دن‘ پر وہ ان تمام جمہوری مجاہدین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے جمہوریت کے تحفظ اور شہری حقوق کی بحالی کے لیے جدوجہد کی۔ ان کی ہمت اور قربانی قوم کو ہمیشہ متاثر کرتی رہے گی۔

قابل ذکر ہے کہ این سی ای آر ٹی نے پہلی بار 1975-77 کی ایمرجنسی کو اپنی کلاس 9 کی سماجی سائنس کی نصابی کتاب میں شامل کیا ہے۔ کتاب میں بنیادی حقوق کی معطلی، پریس سنسرشپ اور جے پرکاش نارائن تحریک کا ذکر ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande