ہاتھیوں کاقہر، خاتون کوکچل کر ہلاک کر ڈالا
کوڈرما، 25 جون (ہ س) جھارکھنڈ کے کوڈرما ضلع کے ڈومچانچ نگر پنچایت علاقے میں بدھ کی رات ہاتھیوں کے جھنڈ نے قہرمچادیا۔ ہاتھیوں نے دوروڈیہہ اور تیتریاڈیہہ گاوں میں کئی گھروں کی دیواروں کو نقصان پہنچایا جس سے گاوں والوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ہاتھیوں
ہاتھی


کوڈرما، 25 جون (ہ س) جھارکھنڈ کے کوڈرما ضلع کے ڈومچانچ نگر پنچایت علاقے میں بدھ کی رات ہاتھیوں کے جھنڈ نے قہرمچادیا۔ ہاتھیوں نے دوروڈیہہ اور تیتریاڈیہہ گاوں میں کئی گھروں کی دیواروں کو نقصان پہنچایا جس سے گاوں والوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ہاتھیوں کے گاوں میں داخل ہونے کی اطلاع ملنے پر گاوں والوں نے پٹاخے چلا کر اور بم پھینک کر انھیں بھگانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ہاتھیوں کاجھنڈ تیتریاڈیہہ کی طرف بڑھا۔ خوف زدہ گاوں والے رات بھر چوکس رہے۔ جمعرات کی علی الصبح تیتریاڈیہہ گاوں میں ہاتھیوں کے جھنڈ نے ایک خاتون کو روند ڈالا۔ مرنے والی خاتون کی شناخت 55 سالہ سداما دیوی (کیدار مہتا کی بیوی) کے طور پر کی گئی ہے، جو تیتریاڈیہہ گاوں کی رہنے والی تھی۔ متوفی کے بھائی کے مطابق سداما دیوی جمعرات کی صبح تقریباً 5 بجے کھیتوں میں چہل قدمی کے لیے گئی تھی کہ ایک ہاتھی نے ان پر حملہ کر دیا۔ اگرچہ سداما دیوی نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن وہ کھیتوں میں گر گئی اور ہاتھی نے اسے کچل دیا جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اسٹیشن انچارج ابھیمنیو پڈیہاری پولیس فورس کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے، معاملے کی جانچ کی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے کوڈرما صدر اسپتال بھیج دیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کاماحول ہے۔ دیہاتیوں نے محکمہ جنگلات سے مطالبہ کیا ہے کہ ہاتھیوں کے قہر سے نجات دلائی جائے اور متاثرہ خاندان کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔

وہیں، ضلع میں ہاتھیوں کے نئے سرے سے حملوں نے محکمہ جنگلات کے لیے تشویش اور دیہاتیوں کو ناراض کر دیا ہے۔ گاوں والوں کا کہنا ہے کہ ہاتھیوں کے حملوں کے نتیجے میں گزشتہ دو سالوں میں 24 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ کسانوں کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس کے باوجود محکمہ جنگلات کی ٹیم ہاتھیوں کو بھگانے میں ناکام رہی ہے۔

دو دن قبل ڈومچانچ بلاک کے گولگو گاوں میں ہاتھیوں کے جھنڈ نے کسانوں کے گھروں کو تباہ کر دیا تھا جس سے انہیں لاکھوں روپے کا نقصان ہوا تھا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande