ہائی کورٹ نے بوکارو لاپتہ لڑکی کیس میں ڈی این اے رپورٹ کا جائزہ لیا، ریاستی حکومت سے اسٹیٹس رپورٹ طلب
رانچی، 25 جون (ہ س):۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے جمعرات کو بوکارو ضلع سے لاپتہ 18 سالہ لڑکی کے انتہائی مشہور کیس میں ایک اہم سماعت کی اور کولکاتہ میں سنٹرل فارنسک سائنس لیبارٹری (سی ایف ایس ایل) سے موصولہ ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کا جائزہ لیا۔ یہ رپورٹ
ہائی کورٹ نے بوکارو لاپتہ لڑکی کیس میں ڈی این اے رپورٹ کا جائزہ لیا، ریاستی حکومت سے اسٹیٹس رپورٹ طلب


رانچی، 25 جون (ہ س):۔

جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے جمعرات کو بوکارو ضلع سے لاپتہ 18 سالہ لڑکی کے انتہائی مشہور کیس میں ایک اہم سماعت کی اور کولکاتہ میں سنٹرل فارنسک سائنس لیبارٹری (سی ایف ایس ایل) سے موصولہ ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کا جائزہ لیا۔ یہ رپورٹ لاپتہ لڑکی کے والدین کے ڈی این اے کے نمونے جنگل سے برآمد ہونے والے ڈھانچے سے ملنے کی بنیاد پر تیار کی گئی۔

اس کیس کی سماعت جسٹس سوجیت نارائن پرساد اور سنجے پرساد کی ڈویژن بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی طرف سے سیل بند لفافے میں پیش کی گئی ڈی این اے رپورٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد عدالت نے اسے کیس کے تفتیشی افسر (آئی او) کے حوالے کر دیا۔ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ بھی تفتیشی افسر کو دستیاب کرائی گئی، جس میں اسے تحقیقات آگے بڑھانے اور ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی۔

ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو اس معاملے میں مبینہ طور پر لاپرواہی برتنے والے پولیس افسران کے خلاف کی گئی کارروائی کے بارے میں تفصیلی اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر محکمانہ کارروائی کی موجودہ صورتحال اور پیشرفت فراہم کی جائے۔

سماعت کے دوران وکیل ونسنٹ روہت مارکی اور شانتنو گپتا نے درخواست گزار کا مقدمہ پیش کیا۔ کیس کے تفتیش کار اور ایس آئی ٹی کے ارکان بھی موجود تھے۔

قابل ذکر ہے کہ لاپتہ لڑکی کی ماں نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں اپنی بیٹی کی بازیابی اور منصفانہ جانچ کی مانگ کرتے ہوئے ہیبیس کارپس درخواست دائر کی تھی۔ لڑکی کی 31 جولائی 2025 سے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی تھی۔ اس سلسلے میں پنڈراجورا پولیس اسٹیشن میں مقدمہ نمبر 147/2025 درج ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande