
فرانس،24جون(ہ س)۔غزہ کے’مجلسِ امن‘ نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ مراکش کی فوج کے افسران جن کی تعیناتی فروری میں طے کی گئی تھی، اسرائیل پہنچ گئے ہیں تاکہ وہ غزہ میں تعینات ہونے والی بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل ہو سکیں۔فرانسس پریس کے مطابق، مجلس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ یونٹ 18 جون کو جنوبی اسرائیل میں قائم بین الاقوامی استحکام فورس کے ہیڈکوارٹر پہنچا۔ان کے مطابق یہ دستہ فورس کے مجموعی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرے گا اور پولیسنگ سمیت مختلف شعبوں میں اپنی مہارت فراہم کرے گا۔اہلکار نے تصدیق کی کہ اس یونٹ میں کم از کم چار مراکشی افسران شامل ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا اس کے علاوہ مزید اہلکار بھی موجود ہیں یا نہیں۔
دوسری جانب ’مجلسِ امن‘ جس کی قیادت سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں، نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر کہا کہ ان افسران کی آمد غزہ کے عوام کی حمایت کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو مزید مضبوط بنائے گی۔یاد رہے کہ فروری میں مراکش نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ میں پولیس اور فوجی اہلکار تعینات کرے گا اور اس طرح وہ پہلا عرب ملک بن گیا تھا جس نے اس اقدام کی باضابطہ تصدیق کی۔جنوری کے وسط میں امریکہ نے غزہ کے لیے ٹرمپ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ بتایا گیا تھا جو 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد شروع ہوئی۔ تاہم زمینی سطح پر اس پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔
اس منصوبے کے تحت جس کی منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی دی، اکتوبر میں جنگ بندی عمل میں آئی، جبکہ دوسرے مرحلے میں اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا، حماس کے غیر مسلح ہونے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کی بات کی گئی ہے، تاہم یہ اقدامات تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔حماس نے فروری کے آخر میں اس بین الاقوامی فورس کی موجودگی کو مشروط طور پر قبول کرنے کا عندیہ دیا تھا، بشرطیکہ وہ غزہ کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔دوسری جانب اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے خاتمے کی کوششیں بدستور تعطل کا شکار ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan