ہندوستان-امریکہ دو طرفہ تجارتی معاہدے کے قریب، اہم پہلووں کا جائزہ لیا گیا
بھارت کے ساتھ تاریخی تجارتی معاہدے کے بہت قریب: امریکی اہلکار نئی دہلی، 24 جون (ہ س) ۔ ہندوستان اور امریکہ ایک عبوری تجارتی معاہدہ کرنے کے قریب ہیں۔ مذاکرات اب ٹیرف کے فوائد، مارکیٹ تک رسائی اور واشنگٹن کی عارضی 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی کے لیے 24 جولا
تجارت


بھارت کے ساتھ تاریخی تجارتی معاہدے کے بہت قریب: امریکی اہلکار

نئی دہلی، 24 جون (ہ س) ۔ ہندوستان اور امریکہ ایک عبوری تجارتی معاہدہ کرنے کے قریب ہیں۔ مذاکرات اب ٹیرف کے فوائد، مارکیٹ تک رسائی اور واشنگٹن کی عارضی 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی کے لیے 24 جولائی کی آخری تاریخ پر منحصر ہیں۔

نئی دہلی میں کامرس بلڈنگ میں منعقدہ دو روزہ وزارتی میٹنگ میں ہندوستان اور امریکہ نے مجوزہ دو طرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کے اہم امور کا جائزہ لیا۔ ان مسائل میں مارکیٹ تک رسائی میں بہتری، ڈیجیٹل تجارت اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو کم کرنا شامل تھا۔ یہ میٹنگ مرکزی کامرس اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل اور امریکی تجارتی نمائندے جیمسن گریر کے درمیان ہوئی ۔ بات چیت کی بنیادی توجہ ایک عبوری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے طریقوں پر تھی، جو کہ ایک جامع بی ٹی اے کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔

ملاقات میں دونوں فریقوں نے 24 فروری کو امریکہ کی طرف سے اپنے تمام تجارتی شراکت داروں پر عائد عارضی 10 فیصد ٹیرف کی میعاد ختم ہونے سے قبل مذاکرات کو حتمی شکل دینے پر وسیع تبادلہ خیال کیا۔ یہ ٹیرف 24 جولائی کو ختم ہونے والے ہیں۔ اس معاہدے کے فریم ورک کا اعلان رواں سال فروری میں کیا گیا تھا۔

مرکزی کامرس اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل کے مطابق، آج صبح امریکی تجارتی نمائندے سفیر جیمسن گریر اور ان کے وفد کے ساتھ میٹنگوں کا ایک دور ختم ہوا۔ گوئل نے کہا، ہم نے جاری ہندوستان-امریکہ تجارتی مذاکرات کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور اپنی اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مزید کہا، میں سفیر گریر کی قیادت اور دونوں ٹیموں کی مسلسل کوششوں کو سراہتا ہوں، جس نے ہماری بات چیت کو تعمیری اور مستقبل کے حوالے سے آگے بڑھایا ہے۔

ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق، امریکہ اور بھارت ایک تاریخی باہمی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب ہیں، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 140 کروڑ لوگوں کی ہندوستانی منڈی کو باہمی فائدہ مند شرائط پر امریکی اشیا کے لیے کھول دیا جائے گا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande