ایران اب باب المندب کو بند کر سکتا ہے، تہران کی دھمکی کے باوجود امریکہ پر امید
۔ٹرمپ نےکہا- ہرمز اگلے ہفتے سمجھوتے کے ساتھ کھلنے کی امید تہران/واشنگٹن، 02 جون (ہ س)۔ ایران کی جانب سے آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی نے مشرق وسطیٰ (مغربی ایشیا/مشرق وسطی) میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایران کے اس موقف سے آبنائے
IranBab-al-MandebThreat


۔ٹرمپ نےکہا- ہرمز اگلے ہفتے سمجھوتے کے ساتھ کھلنے کی امید

تہران/واشنگٹن، 02 جون (ہ س)۔ ایران کی جانب سے آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی نے مشرق وسطیٰ (مغربی ایشیا/مشرق وسطی) میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایران کے اس موقف سے آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے پہلے سے ہی پریشان دنیا کے لیے نئی مصیبت آنے کا خدشہ ہے۔ ایران نے ایک طرح سے گیند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےپالے میں اچھال دی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ نہیں روکنے میں مددکی، تو وہ آبنائے باب المندب جو کہ ہرمز کے بعد دوسرا سب سے بڑا اسٹریٹجک سمندری راستہ ہے، کو بلاک کرنے سےگریز نہیں کرے گا۔

ان تمام باتوں کے باوجود پراعتماد ٹرمپ نے کہا ہےکہ ثالثی کرنے والے مذاکرات کاروں کے ذریعے ایران کے ساتھ بات چیت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اگلے ہفتے تک معاہدے کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی، طویل عرصے سے بند آبنائے ہرمز تمام ممالک کے بحری جہازوں کے لیے دوبارہ کھل جائے گا۔

الجزیرہ، سی بی ایس نیوز، ایران انٹرنیشنل، آئی آر این اے، اور اے بی سی نیوز کی رپورٹوں کے مطابق ایران کی تازہ ترین دھمکی نے مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ باب المندب کوبند کرنے سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی چین پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ باب المندب عالمی تجارت کے لیے ایک تنگ لیکن اہم سمندری راستہ ہے۔ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے۔ یمن، جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع یہ آبی گزرگاہ سویز نہر کے ذریعے ایشیا اور یورپ کو ملاتی ہے۔ فی الحال، ہزاروں مال بردار بحری جہاز روزانہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ایشیائی ممالک جیسے ہندوستان ، چین اور جاپان میں مینوفیکچرنگ ہب سے یورپ تک کی درآمدات کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

یہ سمندری راستہ تجارتی سامان تک محدود نہیں ہے۔ یہ توانائی کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس راستے سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزرتی ہیں۔ خلیجی ممالک بشمول قطر سے نکلنے والی ایل این جی (مائع قدرتی گیس) کی بڑی سپلائی یورپ اور دیگر ممالک تک پہنچتی ہے۔ اگر اس راستے میںرخنہ اندازی ہوئی تو اس سے توانائی کی عالمی منڈی پر خاصا دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اگر ایران اسے بندکرتا ہے، تو بحری جہازوں کو افریقہ میں کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے طویل چکر لگانا پڑے گا۔ اس سے ان کی منزل تک پہنچنے کا وقت 10-14 دن بڑھ سکتا ہے۔ اس سے ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

اس دھمکی کے بعد ،ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ایک جگہ اسکی خلاف ورزی تمام محاذوں پرخلاف ورزی تصور کی جائے گی۔ دریں اثنا، سپاہ پاسداران اسلامی انقلاب (آئی آر جی سی ) نے جوابی کارروائی میں دشمن کے کارگو جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں، آئی آر جی سی نے کہا کہ پناما جھنڈہ بردار ایم ایس سی سریسکا پر کروز میزائل سے حملہ کیا گیا۔ یہ کارروائی 30 مئی کو خلیج عمان میں ایرانی جہاز لائن اسٹار پر امریکی حملے کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی۔

دریں اثنا، ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ، خاتم الانبیاء کے نائب سربراہ محمد جعفر اسدی نے کہا، ’’امریکہ ہم سے مکمل ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ امریکہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ ایران کبھی بھی خود سپردگی نہیں کرے گا، چاہے اس کے لئے جنگ ہی کیوں نہکرنی پڑے۔‘‘ اسدی نے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہے۔ صدر ٹرمپ نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ چند گھنٹے بعد، اسدی نے کہا کہ حکومت مذاکرات کو روک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اس لئے بات چیت کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ لبنان میں اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ کے درمیان لڑائی بند ہو جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے دونوں فریقین کو اس پر راضی ہونے پر آمادہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے پھر کہا کہ اسرائیلی افواج ’’جنوبی لبنان میں منصوبہ بندی کے مطابق آپریشن جاری رکھیں گی۔‘‘ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان رات بھر جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیبافنے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان میں اسرائیلی حملے جاری رہے تو تہران امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کو روک دے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande