مدھیہ پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس میں یو سی سی بل پیش ہوگا : موہن یادو
بھوپال، 17 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ اسمبلی کے مانسون اجلاس میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کی تجویز لائی جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بابا مہاکال کے آشیرواد سے یہ بل اسی سیشن میں پاس ہو جائے گا۔ وزیر اعل
مدھیہ پردیش اسمبلی کیمپس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ موہن یادو


بھوپال، 17 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ اسمبلی کے مانسون اجلاس میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کی تجویز لائی جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بابا مہاکال کے آشیرواد سے یہ بل اسی سیشن میں پاس ہو جائے گا۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بدھ کے روز اسمبلی کیمپس میں سابق وزیر اعلیٰ کیلاش ناتھ کاٹجو کے یومِ پیدائش پر منعقدہ خراجِ عقیدت کی تقریب کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ اسمبلی کے آئندہ سیشن میں حکومت کئی اہم اور عصری موضوعات لے کر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں یکساں قانون نافذ کرنے کے جذبے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے اور یہ معاشرے میں برابری لانے کی ایک کوشش ہے۔ اتراکھنڈ، گجرات اور اسام جیسی ریاستوں میں یو سی سی نافذ کیا جا چکا ہے۔ مدھیہ پردیش بھی اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ یکساں سول کوڈ کو اسمبلی کے مانسون اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ اس میں قبائلی طبقہ علیحدہ رہے گا۔ کمیٹی رائے لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھگوان مہاکال نے چاہا تو اسمبلی کے اسی اجلاس میں یکساں سول کوڈ بل پاس ہوگا اور مدھیہ پردیش بھی جلد ہی اس قانون کو نافذ کرنے والا صوبہ بن جائے گا۔

مدھیہ پردیش اسمبلی کا مانسون اجلاس 20 جولائی سے شروع ہو رہا ہے۔ یہ 5 روزہ اجلاس 24 جولائی تک چلے گا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی منشا کے مطابق ریاست میں یکساں سول کوڈ کی عملی افادیت جانچنے اور اس کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ریاستی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کی سابق جج رنجنا پرکاش دیسائی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر شتروگھن سنگھ، قانونی ماہر انوپ نائر، ماہرِ تعلیم گوپال شرما اور سماجی کارکن بدھ پال سنگھ کو شامل کیا گیا ہے۔

کمیٹی کو تشکیل کے بعد 60 دنوں کے اندر اپنی رپورٹ اور مجوزہ ڈرافٹ تیار کر کے حکومت کو سونپنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ یہ 6 رکنی کمیٹی لگاتار ریاست کے مختلف اضلاع کا دورہ کر رہی ہے اور مقامی لوگوں سے اس قانون کو لے کر ان کی رائے لے رہی ہے۔ کمیٹی ریاست کے زیادہ تر اضلاع میں دورہ کر چکی ہے۔ وہیں یو سی سی پر عام شہریوں کی تجاویز آن لائن درج کرنے کے لیے ایک سرکاری ویب پورٹل بھی شروع کیا گیا ہے۔ اس پر بھی عوام اور مختلف تنظیموں سے یو سی سی کو لے کر تجاویز اور مشورے منگوائے جا رہے ہیں۔ عوام کے مشوروں اور الگ الگ طبقوں سے بات چیت کے بعد اب اس ڈرافٹ کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ آئندہ مانسون اجلاس میں اسے اسمبلی کی میز پر رکھ کر پاس کرایا جائے اور اس سال دیوالی تک مدھیہ پردیش میں یکساں سول کوڈ کو پوری طرح نافذ کر دیا جائے۔

اسمبلی اجلاس میں یو سی سی تجویز لانے کو لے کر بی جے پی رکن اسمبلی رامیشور شرما نے بھی حکومت کے اس قدم کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ پورے ہندوستان کی مانگ ہے اور یہ قانون ملک کی سیکورٹی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی رکن اسمبلی شرما نے زور دے کر کہا کہ اس قانون کے نافذ ہونے سے آبادی پر بھی کنٹرول لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی کئی ریاستوں نے اسے نافذ کرنے کی پہل کی ہے اور اب مدھیہ پردیش میں بھی اس کی پوری تیاری کر لی گئی ہے۔

وہیں کانگریس رکن اسمبلی عارف مسعود نے کہا کہ اس کی سبھی لوگ مخالفت کریں گے۔ یہ یو سی سی تو بچا ہی نہیں ہے، جب آپ ایک ٹرائبل کمیونٹی (قبائلی طبقے) کو علیحدہ کر رہے ہیں تو اب یو سی سی کہاں بچا؟ کامن سول تو سبھی کے لیے ایک جیسا قانون ہوتا ہے اور سب کی رائے لے کر کرنا چاہیے، یہی ہونا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande