اسرائیلی کمپنی پر امریکہ، فرانس اور دیگر ممالک کے انتخابی عمل میں مداخلت کا الزام
واشنگٹن،13جون(ہ س)۔اسرائیلی کمپنی ’بلیک کور‘ کے بارے میں فرانس میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مشتبہ طور پر اس نے ماہ مارچ میں نیو یارک اور سکاٹ لینڈ میں مداخلت کی تھی۔ یہ اسرائیلی کمپنی انگولا ، ٹوگو میں کام کرتی ہے، فرانس کی ڈس انفارمیشن کا پتہ چلا
اسرائیلی کمپنی پر امریکہ، فرانس اور دیگر ممالک کے انتخابی عمل میں مداخلت کا الزام


واشنگٹن،13جون(ہ س)۔اسرائیلی کمپنی ’بلیک کور‘ کے بارے میں فرانس میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مشتبہ طور پر اس نے ماہ مارچ میں نیو یارک اور سکاٹ لینڈ میں مداخلت کی تھی۔ یہ اسرائیلی کمپنی انگولا ، ٹوگو میں کام کرتی ہے، فرانس کی ڈس انفارمیشن کا پتہ چلانے والی سروس وگینم کی طرف سے یہ بات سامنے لائی گئی ہے۔

پچھلے ماہ مغربی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' نے رپورٹ کیا تھا کہ فرانسیسی حکام کو شبہ ہے کہ اسرائیلی کمپنی 'لیک کور' آن لائن سمیر مہم کے پیچھے موجود تھی۔ تاکہ میئر شپ کے تین امیدواروں کو نشانہ بنا سکے جو کہ فلسطینی بائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں۔

فرانسیسی وزیر اعظم کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے وگینم کے چیفانتونی بریلانٹ نے کہا ’بلیک کور‘ کے حوالے سے تکنیکی کام کے نتیجے میں یہ رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں اسرائیلی کمپنی ’بلیک کور‘ کے دنیا بھر میں ایسی کارروائیوں میں ملوث ہے۔پریس کانفرنس میں کیے گئے انکشاف کے مطابق یہ طریقہ واردات صرف فرانس کے میونسپلٹیز کے انتخابات تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ علاقے کے ملکوں کی خارجہ امور سے متعلق امور میں بھی مداخلت کی صورت موجود ہے۔ اس کی مثال ٹوگو ، انگولا اور سکاٹ لینڈ کے انتخابات کے علاوہ 2025 میں نیو یارک میں ہونے والے انتخاب میں بھی اسرائیلی کمپنی کی مداخلت نظر آئی۔

تاہم یہ ابھی پتہ چلانا باقی ہے کہ فرانس کے بلدیاتی انتخابات میں اسرائیلی کمپنی ' بلیک کور ' کو مداخلت کی ذمہ داری کس کی جانب سے سونپی گئی تھی۔ فرانس میں اب تک کی گئی اس سلسلے کی تحقیقات سے یہ ممکن نہیں ہو سکا کہ اسرائیلی کمپنی کو وسائل کی فراہمی کون کرتا رہا ہے۔پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ فرانس نے اسرائیلی حکومت سے اس مداخلت کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔ نیز یہ بھی کہا ہے اس مداخلت کاری کی جڑ تک پہنچنے میں فرانس کی مدد کرے۔

انہوں نے کہا مجھے یہ ایک لمحے کے لیے بھی شبہ نہیں کہ اسی طرح کی مداخلت اگر فرانس کی کسی نجی کمپنی کی طرف سے اسرائیلی انتخابی عمل میں کی گئی ہوتی تو اسرائیل بھی اسی طرح رابطہ کرکے پوچھتا۔

پیرس میں اسرائیلی سفارت خانے نے اس سلسلے میں فرانس کے اسرائیل میں سفیر سے وضاحت طلب کرنے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم اسرائیل کو ابھی ان تحقیقات کے ملنے کا انتظار ہے جو فرانس نے کی ہیں۔ لیکن یہ بات کنفرم ہے کہ اسرائیل کا مقصد مداخلت نہیں ہوتا۔

فرانسیسی عہدے دار نے پریس کانفرنس کے دوران وضاحت سے نہیں بتایا کہ پچھلے سال نیو یارک میں میئر کے انتخاب میں مداخلت کس طرح کی گئی۔ یاد رہے اس انتخاب میں ظہران ممدانی میئر منتخب ہوئے تھے۔ ممدانی کی جیت نے نوجوانوں کو ایک نیا جوش وجذبہ دیا ہے۔ حتیٰ کہ کئی یہودی نوجوان بھی اس کی حمایت میں رہے لیکن ممدانی کی فلسطین کاز کے لیے کھلی حمایت انہیں اچھی نہ لگی۔فرانس کی طرف سے اس انکشاف کے بارے میں ممدانی کی ٹیم نے فوری طور پر کوئی رد عمل نہیں دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande