
شملہ، 10 جون (ہ س)۔ شملہ میں جاری انسداد منشیات مہم کے درمیان، پولیس نے ایک ایسے منشیات کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو صرف دودھ اور کرکرے کے پیکٹوں میں چھپاکر ہیروئن شہر میں اسمگل کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق، اس نیٹ ورک کے ایک اہم مشتبہ شخص کو فرید آباد، ہریانہ میں گرفتار کیا گیا ہے اور تحقیقات میں گزشتہ تین مہینوں میں تقریباً 1.2 کروڑ کے لین دین کا پردہ فاش ہوا ہے۔
یہ معاملہ بالو گنج پولیس اسٹیشن میں درج این ڈی پی ایس ایکٹ معاملہ سے منسلک ہے۔ پولیس کے مطابق 24 اپریل 2026 کو اویناش چوہان نامی شخص کے قبضے سے 6.70 گرام چٹا (ہیروئن) برآمد ہوئی تھی۔ جیسے ہی تفتیش آگے بڑھی، وشال یادو اور اس کے بھائی جئے پرکاش یادو، دونوں بھوجپور (بہار) کے رہنے والے، کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے پوچھ گچھ، بینک ٹرانزیکشنز کی جانچ اور ڈیجیٹل شواہد کے تجزیے کے دوران پورے نیٹ ورک کا پردہ فاش ہونے لگا۔
تحقیقات کی بنیاد پر پولیس نے روی اہیروار (21) کو فرید آباد سے 5 جون کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق روی اصل میں مدھیہ پردیش کے چھتر پور ضلع کا رہنے والا ہے اور گزشتہ سال سے موہالی میں رہ رہا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ وہ ہیروئن کی کھیپ ہماچل پردیش پہنچانے میں ملوث تھا۔ پولیس کے مطابق روی نے شملہ اور آس پاس کے علاقوں میں آئی ایس بی ٹی ٹوٹی کنڈی اورآس پاس کے علاقوں میں منشیات کو دودھ، کرکرے اور دیگر خالی پیکٹوں میں چھپا کررکھتا تھا۔ اس کے بعد وہ ان مقامات کی ویڈیو ریکارڈنگ کرتا اور نیٹ ورک کے مبینہ آپریٹر کو بھیج دیتا۔ ادائیگی کی تصدیق کے بعد، مقامات کالوکیشن خریداروں کے ساتھ شیئر کیا جاتاتھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے اس کام کے لیے کمیشن حاصل کیا اور گزشتہ ایک سال میں تقریباً 50 مرتبہ شملہ کا دورہ کیا تھا۔ اس کے کردار کی تصدیق اس کے موبائل فون سے برآمد ہونے والے ڈیجیٹل شواہد اور ویڈیو ریکارڈنگ سے ہوئی۔
شملہ کے ایس ایس پی نے بدھ کے روز کہا کہ پولیس کی توجہ اب صرف منشیات کی برآمدگی تک محدود نہیں ہے، بلکہ سپلائی کے پورے نیٹ ورک کو ختم کرنے پر ہے۔ پولیس کے مطابق 2025 میں تقریباً ایک کلو گرام ہیروئن برآمد کی گئی تھی، وہیں 2026 میں اب تک تقریباً دو کلو گرام ہیروئن برآمد کی جا چکی ہے۔ اسی عرصے کے دوران مبینہ بیک ورڈ لنکز کی بنیاد پر 48 افراد کو گرفتار کیا گیا، جب کہ 2025 میں ایسے معاملہ میں صرف سات گرفتاریاں ہوئیں۔ پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس سال اب تک منشیات کی سپلائی کے 37 نیٹ ورکس کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تحقیقات فی الحال جاری ہے اور پولیس نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کے لیے کام کر رہی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی