
واشنگٹن،30مئی (ہ س)۔
امریکا نے جمعے کے روز انسدادِ دہشت گردی کے تحت ایران سے تعلق رکھنے والے افراد اور اداروں سمیت متعدد فریقوں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔امریکی وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری نوٹس کے مطابق پابندیوں کی فہرست میں 8 ایرانی شہری اور ایران سے منسلک 5 ادارے شامل ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا کہ ایران پر عائد امریکی مالی اور اقتصادی پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی بتدریج اور سست رفتار سے کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا:دیکھتے ہیں، اگر کوئی پابندی اٹھائی گئی تو وہ مرحلہ وار اور آہستہ آہستہ اٹھائی جائے گی۔بیسنٹ نے مزید انکشاف کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف پالیسی کے اقتصادی پہلو کے تحت امریکا نے ایرانی کرپٹو کرنسی اثاثوں میں سے ایک ارب ڈالر مالیت کے اثاثے ضبط کر لیے ہیں۔
اسی تناظر میں امریکا نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ اس نے ایران کو دفاعی ٹیکنالوجی منتقل کرنے والے ایک ''پیچیدہ'' نیٹ ورک کو بے نقاب کرکے ختم کر دیا ہے۔امریکی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نیٹ ورک نے امریکی کمپنیوں کا روپ دھار کر انہیں دھوکا دیا اور ایرانی فوج کے لیے حساس ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کی۔
واشنگٹن کے مطابق اس نیٹ ورک کی قیادت ایران میں مقیم علی مجد سہر کر رہا تھا، جس نے جعلی شناختوں اور فرضی کمپنیوں کے ذریعے درجنوں امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے لاکھوں ڈالر مالیت کا سامان حاصل کیا۔بیان میں کہا گیا کہ سہر اور اس کے ساتھی ایرانی دفاعی شعبے کے لیے جدید آلات حاصل کرنا چاہتے تھے، جن میں اسپیکٹرم تجزیہ کرنے والے آلات اور سکیورٹی اسکیننگ کے جدید نظام بھی شامل تھے۔وزارتِ خارجہ کے مطابق اس منصوبے کے تحت جعلی ویب سائٹس بنائی گئیں ،جو امریکی کمپنیوں کی اصل ویب سائٹس سے مشابہ تھیں۔اس کے علاوہ سامان وصول کرنے کے لیے درمیانی افراد کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ ٹیکنالوجی خفیہ طور پر ایران منتقل کی جاتی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan